’امریکی جنرل تشدد میں ملوث‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ بغداد کے ابو غریب جیل میں قیدیوں سے تفتیش کے دوران تشدد کے بعض طریقوں کی امریکی جنرل ریکارڈو سانچیز نے منظوری دی تھی۔ نیویارک ٹائمز نے یہ دعوی ابو غریب جیل کے واقعات پر مرتب کی جانے والی ایک فوجی رپورٹ میں کیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس رپورٹ کے ان حصوں کو شائع نہیں کیا جن میں امریکی جنرل ریکارڈو سانچیز پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے تشدد کے بعض طریقوں کی منظوری دی تھی۔ اخبار نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کے غیر شائع شدہ حصے اسے وزارتِ دفاع کے ایک اعلی افسر نے فراہم کیے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پوری رپورٹ کو شائع کرنے سے لوگوں کو ابو غریب میں ہونے والے واقعات کو پوری طرح سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ جنرل ریکارڈو سانچیز نے ابو غریب جیل میں تشدد کے وہ طریقے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جو اس سے پہلے صرف گوانتانامو کے کیمپ ایکسرے میں استعمال کیے گئے تھے۔ ان میں قیدیوں کو برہنہ کر کے چھوٹے چھوٹے انتہائی سرد یا انتہائی گرم تاریک کمروں میں بند کرنا بھی شامل ہے جو کہ جنیوا کنونش کے اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر پر امریکی وزارتِ دفاع کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||