BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 August, 2004, 21:57 GMT 02:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ابوغریب میں لاقانونیت تھی‘
ابوعریب جیل
اس واقعہ کی اداراجاتی اور ذاتی ذمہ داری داشنگٹن میں اعلی کمانڈ تک جاتی ہے
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفلڈ کی جانب سے تشکیل شدہ کمیشن نے کہا ہے کہ ابو غریب جیل میں لاقانونیت کا عالم تھا۔

رپورٹ کے مطابق جیل میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کی کوئی سرکاری پالیسی نہیں تھی لیکن یہ بد سلوکی جیل میں بد نظمی اور قیادت کی ناکامی کے نتیجے میں ہوئی۔
اس کمیشن کی قیادت سابق امریکی وزیر دفاع جیمز شلیسنگر کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری مقامی سطح پر کمانڈروں کی ہے جبکہ اس واقعہ کی اداراجاتی اور ذاتی ذمہ داری واشنگٹن میں اعلی حکام تک جاتی ہے ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ صرف کچھ لوگوں کی جانب سے موجود قاعدوں اور ضوابط کی پاسداری کرنے میں ناکامی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ کچھ رہنماؤں کی جانب سے ڈسپلن کو نافذ کرنے میں ناکامی ہے ۔

اور اس کی اداراجاتی اور ذاتی ذمہ داری اوپر کی سطح تک جاتی ہے ۔

رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ مسٹر رمسفلڈ نے اس طرح کی بد سلوکی کی اجازت دی تھی یا کسی طرح سے اس کی حوصلہ افزائی کی ۔

لیکن ایسا اشارہ دیا گیا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے فوج میں نچلی سطح پر کچھ کنفیوژن پیدا کر دیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں شیلسنگر جیمز نے کہا کہ رمزفیلڈ کا استعفی امریکہ کے دشمنوں کے لئے ایک تحفہ ہوگا۔اور اگر ایسا ہوا تو یہ بد قسمتی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ جیل غیر فوجیوں کے لئے تھی اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کے لئے مناسب تھی۔ اس کے علاوہ جو محافظ وہاں تعینات تھے وہ غیر تربیت یافتہ تھے اور ان کے کمانڈروں نے ان کی مناسب ڈھنگ سے نگرانی نہیں کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد