BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: ناروا سلوک کی تحقیقات
News image
امریکی افواج کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کی باقیات مٹانا چاہتی ہے
کابل میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ایک افغان پولیس افسر کے ساتھ امریکی فوجیوں کے مبینہ پرتشدد سلوک کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ایک افغان پولیس اہلکار کو اس وقت جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ امریکی فوج کی تحویل میں تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ساتھ دوسرے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے پولیس افسر کے مذکورہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ پچھلے سال گردیز میں واقع امریکی فوجی کیمپ میں زیادتی کی گئی تھی۔ پولیس افسر نے الزام لگایا ہے کہ انہیں برہنہ کرکے تصاویر اتاری گئیں اور سونے نہیں دیا گیا۔

تاہم افغانستان میں امریکی سفیر زلمئے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کسی واقعہ اور تصاویر سے واقف نہیں ہیں۔

اس ہفتہ حقوق انسانی کی ایک مقامی تنظیم کو امریکی حراست میں موجود قیدیوں تک رسائی سے روک دیا گیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ کسی بدسلوکی کے سدباب کے لئے ہلال احمر کی بین الاقوامی تنظیم کی نگرانی کافی ہے۔

مارچ میں شائع ہونے والی ہیومین رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کہا گیا تھا کہ افغانستان میں امریکی جس حالت میں قیدیوں کو رکھتے ہیں وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اس وقت افغانستان میں تقریباً تین سو افراد امریکی حراست میں ہیں جن کی اکثریت افغان ہے۔ ان لوگوں کو بگرام میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی ایک نامعلوم تعداد دیگر مقامات پر بھی رکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد