افغانستان: ناروا سلوک کی تحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ایک افغان پولیس افسر کے ساتھ امریکی فوجیوں کے مبینہ پرتشدد سلوک کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ایک افغان پولیس اہلکار کو اس وقت جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ امریکی فوج کی تحویل میں تھا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ساتھ دوسرے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے پولیس افسر کے مذکورہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ پچھلے سال گردیز میں واقع امریکی فوجی کیمپ میں زیادتی کی گئی تھی۔ پولیس افسر نے الزام لگایا ہے کہ انہیں برہنہ کرکے تصاویر اتاری گئیں اور سونے نہیں دیا گیا۔ تاہم افغانستان میں امریکی سفیر زلمئے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کسی واقعہ اور تصاویر سے واقف نہیں ہیں۔ اس ہفتہ حقوق انسانی کی ایک مقامی تنظیم کو امریکی حراست میں موجود قیدیوں تک رسائی سے روک دیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ کسی بدسلوکی کے سدباب کے لئے ہلال احمر کی بین الاقوامی تنظیم کی نگرانی کافی ہے۔ مارچ میں شائع ہونے والی ہیومین رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کہا گیا تھا کہ افغانستان میں امریکی جس حالت میں قیدیوں کو رکھتے ہیں وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس وقت افغانستان میں تقریباً تین سو افراد امریکی حراست میں ہیں جن کی اکثریت افغان ہے۔ ان لوگوں کو بگرام میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی ایک نامعلوم تعداد دیگر مقامات پر بھی رکھی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||