ابوغریب انٹیلی جنس اہلکار ملوث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کی ایک نئی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی میں ملٹری انٹیلیجنس کے 27اہلکار ملوث تھے ۔ تحقیق کاروں نے پایا کہ جیل میں سینئر کمانڈر اس بارے میں جانتے تھے لیکن کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ اس سے قبل کل ہی اس واقعہ کے بارے میں ایک پینل کی رپورٹ آئی تھی جس میں جیل میں تعینات فوجیوں اور ان کے افسران کو ذمہ دار ٹھرایا گیا ہے۔ اس معاملے میں سات فوجیوں پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔اس نئی رپورٹ میں جیل میں فوجی انٹیلیجنس کے رول پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس انکوائری کی قیادت کرنے والے جنرل پال کرن کا کہنا ہے کہ ’ جیل میں شدید بد نظمی اوراقدار کی کمی دیکھنے میں آئی‘۔ تحقیقات سے جیل میں کام کرنے والے کچھ فوجیوں کے پریشان کن رویے کے بارے میں پتہ چلا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی افواج نے انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈکراس سے کم از کم آٹھ قیدیوں کو چھپایا تھا تاکہ ان کے بارے میں جانکاری حاصل نہ ہو سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ملی کہ وہاں ایسا کیوں ہوا۔رپورٹ میں اس واقعہ کا ذمہ دار اخلاقی طور پر بدعنوان فوجیوں کے ایک گروپ اور ان کے سینئر افسران کی جانب سے ڈسپلن رکھنے میں ناکامی کو ٹھرایا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||