BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 April, 2005, 07:05 GMT 12:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رمزفیلڈ کے خلاف انکوائری کا مطالبہ
امریکی وزیرِ دفاع
امریکی وزیرِ دفاع نے کسی قسم کے شرمناک سلوک کی اجازت نہیں دی تھی: محکمۂ دفاع
حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراقی قیدیوں سے کیے جانے والے شرمناک سلوک میں امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے کردار کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تفتیش کار کا تقرر کرے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع نے ابوغریب جیل میں قیدیوں سے ہونے والے بہیمانہ سلوک میں کلیدی کردار ادا کیا ہو۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ رمز فیلڈ پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے کیونکہ ’ کمانڈ ریسپونسیبلٹی‘ کے قانونی اصول کے تحت ایک افسر اپنے ماتحتوں کے افعال کا اس وقت ذمہ دار ہوتا ہے جب وہ جانتا ہو کہ جرم کیا جا رہا ہے اور وہ اسے روکنے میں ناکام رہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ رمز فیلڈ نے کتوں سے قیدیوں کو خوفزدہ کرنے اور قیدیوں کو تکلیف دہ حالتوں میں رکھنے جیسے تفتیشی حربے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جو کہ جینیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمز فیلڈ کے خلاف تحقیق میں امریکی محکمۂ قانون کے حکام کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ امریکی اٹارنی جنرل البرٹو گونزالز کا خود بھی تفتیشی حربوں کی منظوری میں ایک کردار رہا ہے۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی سلسلے میں سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینٹ سمیت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہییں۔

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع نے کسی قسم کے شرمناک سلوک کی اجازت نہیں دی تھی۔

یاد رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پر پہلے ہی شہری حقوق کی دو تنظیموں نے آٹھ شہریوں کی جانب سے یہ دعویٰ دائر کیا ہوا ہے کہ وہ ان پر افغانستان اور عراق میں امریکی فوجیوں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کے ذمہ دار ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی یہ رپورٹ ابوغریب جیل سکینڈل کا پہلا برس مکمل ہونے سے قبل شائع کی ہے۔

گزشتہ برس اپریل کے اواخر میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا جب یہ بات سامنے آئی تھی کے ابوغریب جیل میں تعینات امریکی فوجی عراقی قیدیوں کے ساتھ تشدد اور شرمناک سلوک روا رکھتے ہیں۔

اس سلسلے میں کچھ امریکی فوجیوں پر مقدمہ بھی چلایا گیا تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سینیئر فوجی افسران کے کردار کے بارے میں مکمل تحقیقات نہیں کی گئیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے خصوصی مشیر ریڈ بروڈی کا کہنا ہے کہ’ ابوغریب معاملے میں تمام نزلہ نچلے درجے کے فوجیوں پر ہی گر رہا ہے اور وہ اعلیٰ افسران آزاد ہیں جو تشدد کی پالیسی بنانے کے ذمہ دار تھے‘۔

یاد رہے کہ جمعہ کو ایک امریکی عدالت نے عراق میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل ریکارڈو سانچیز اور ان کے تین ساتھیوں کو ابوغریب جیل میں ہونے والے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد