’امریکی فوج نے قتل کیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں عراق کے سفیرسمير الصميدعي نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کے ہاتھوں ان کے ایک قریبی رشتہ دار کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کرائے۔ اقوام متحدہ میں اپنے ساتھیوں کو لکھے گئے خط میں الصميدعي نے امریکی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ان کے غیر مسلح اکیس سالہ کزن ( رشتے کے بھائی) کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے پچیس جون کو پیش آنے والے اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئےلکھا کہ ان کا بھائی جو کہ انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے گاؤں گیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دس کے قریب امریکی فوجیوں نے جن کے ہمراہ ایک مصری مترجم بھی تھا ان کے دروازے پر دستک دی۔ انہوں نے کہا کہ محمد نے دروازہ کھولا اور امریکیوں نے اس سے پوچھا کہ گھر میں کوئی ہتھیار تو موجود نہیں ہیں۔ محمد ان کو لے کر اس کمرے میں گیا جہاں ایک پرانی بندوق رکھی ہوئی تھی۔ محمد کو گھر والوں نے آخری مرتبہ امریکیوں کے ساتھ اس کمرے میں جاتے ہوئے دیکھا۔ اُس کے بعد محمد کے ایک دوسرے بھائی کو امریکیوں نے گھسیٹ کر گھر سے باہر نکالا اور زدوکوب کیا۔
امریکیوں نے تمام گھر والوں کو بھی گھر سے باہر نکال دیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی ہنستے ہوئے چلے گئے اور ایک گھنٹے بعد مصری مترجم نے محمد کی والدہ کو اطلاع دی کہ ان کے بیٹے کو گولی مار دی گئی ہے۔ گھر والے جب گھر کے اندر گئے تو انہیں ایک بیڈ روم میں محمد کی خون میں لت پت لاش ملی۔ محمد کو گردن میں گولی مار کے ہلاک کیا گیا تھا۔ انہوں نے محمد کی ہلاکت کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں نے انہیں بغیر کس وجہ کہ انتہائی بے رحمانہ طور پر گولی ماری ہے اور اسے دانستہ قتل قرار دیا۔ الصميدعي نے کہا کہ اس قتل کے ’پراجیکٹ عراق‘ پر دورس اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی حکومت مے ایک ترجمان کے مطابق وزارت خارجہ اور وزارت دفاع پینٹاگون کے حکام اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||