BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 June, 2005, 00:44 GMT 05:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن کے لیےدو سال کافی ہیں:جعفری
ابراہیم الجعفری
ابراہیم الجعفری کا بیان ڈونلڈ رمزفیلڈ کے بیان سے بالکل مختلف ہے
عراقی وزیر اعظم ابراہیم الجعفری نے لندن میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے بعد اخبار والوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک میں دو سال کے اندر امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔ اور دو سال کا وقت اس کے لیے بہت کافی ہے۔

ان کا یہ بیان امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کے بیان سے میل نہیں کھاتا جو دو دن پہلے کہہ چکے ہیں کہ عراق میں مزاحمت کو ختم کرانے کے لیے بارہ سال درکار ہونگے۔

دریں اثناء امریکی صدر بش منگل کو عراق میں امریکہ کے ہاتھوں عراقی حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا پہلا سال مکمل ہونے کے بعد ایک اہم خطاب کرنے والے ہیں۔

دوسری طرف عراق میں قتل اور خون کی وارداتیں جاری ہیں اور صرف پیر کے روز ہی ان وارداتوں میں کم از کم دس افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ بغداد کے شمال میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا ہے جس میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوگۓ۔ ایسی بھی اطلاعات آ رہی ہیں کہ اسے کسی میزائل سے گرایا گیا لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ بغداد کےمشرق میں کار بم پھٹا ہے جس میں چار عام شہری ہلاک ہوگۓ ہیں۔ اس سے پہلےکم سے کم تین افراد گولیوں سے مارے گۓ جن میں ایک امریکی بھی شامل تھا۔ ایک ریسٹورنٹ پر ایک مورٹر یا راکٹ آکر لگا جس میں سات اشخاص مارے گۓ۔ اور تین شمالی شہر کرکوک میں بم پھٹنے سے ہلاک ہوۓ۔

نامہ نگاروں کے مطابق ابراہیم الجعفری کا لندن میں دیا جانے والا بیان ان تمام اندازوں سے بہت مختلف تھا جو گزشتہ چند دن کے دوران واشنگٹن کے سیاست دانوں اور کمانڈروں کی طرف آتے رہے ہیں کہ عراق میں مزاحمت کے خاتمے میں کئ سال لگ جائیں گے۔

عراقی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ کام دوسال کے اندر ہوسکتا ہے اگرچہ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا تشدد کا مکمل خاتمہ ہوجاۓ گا اور مزاحمت کرنے والوں کو شکست دے دی جاۓ گی۔

ابراہیم الجعفری نے اپنے بیان کو چند باتوں سے مشروط ضرور کیا کہ عراقی فوجیں تیار ہوجائیں، پڑوسی ملکوں کی جانب سے تعاون حاصل ہوجائے اور عراق میں سیاسی عمل مستحکم ہوجائے۔

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ جس اخباری کانفرنس سے وہ خطاب کررہے تھے اس میں یہ خبر حاوی رہی کہ عراق میں امریکی اتحادیوں اور مزاحمت کاروں میں رابطہ قائم ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ان خفیہ رابطوں کو حق بہ جانب قرار دیا اور کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہ گروپ تشدد سے کنارہ کشی اختیار کریں اور سیاسی عمل میں شامل ہوجائیں۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے گروپ ہیں جن سے بات چیت ہورہی اور نہ ہی اس بات چیت کو مذاکرات کا نام دیا۔

ٹونی بلیئر نے ابراہیم الجعفری کی تائید کرتے ہوۓ کہا کہ عراق میں باغیانہ کارروائیوں کی شکست کے معنی ہونگے کہ دوسرے مقامات پر بھی اسے شکست ہوجاۓ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد