علاوی نے نئے اتحاد کا اعلان کر دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے شیعہ اتحاد کے نامزد ابراہیم جعفری کے مقابلے پر وسیع تر اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ اعلان عراق میں کامیابی حاصل کرنے والے شیعہ اتحاد کی طرف سے ابراہیم جعفری کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد کیا ہے۔ ابراہیم جعفری خود اپنی ایل پارٹی دعویٰ کے سربراہ ہیں۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شعیہ اتحاد سے امیدواری کے متوقع ایک اور امیدوار احمد چلابی بھی تھے جنہوں نے جعفری کی نامزدگی کے بعد نام واپس لے لیا تھا۔ متحدہ عراق اتحاد نے دو سو پچھہتر رکنی عبوری پارلیمینٹ میں ایک سو چالیس سیٹیں جیتی ہیں۔ اور وزیراعظم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ ایاد علاوی کا کہنا ہے کہ وہ دوسری اکلیتی گروپوں پر مبنی اتحاد بنائیں گے اور وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر کامیابی حاصل کر لیں گے۔ مسٹر ابراہیم جعفری کو دو تہائی سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک سو بیاسی ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ علاوی کا کہنا ہے کہ ان کا اتحاد ان لوگوں پر مشتمل ہو گا جو عراق اور اس کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ خود علاوی بھی شیعہ ہیں لیکن وہ خود کو سکیولر شیعہ کہتے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابراہیم جعفری کامیاب ہو گئے تو وہ عراق میں اسلامی نظام نافذ کریں گے۔ تو ان کا کہنا تھا کہ ابراہیم جعفری ایک معزز آدمی، ایک جنگجو اور ایک اچھے بھائی ہیں۔ علاوی نے اتحاد کے قیام کا اعلان بغداد میں ایک کانفرنس کے دوران کیا تاہم ان کا کہنا تھا اس کی مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔ ابراہیم الجعفری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نرم گفتار ہیں، پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور ان کی عمر ستاون اٹھاون سال ہے۔ وہ پابند مذہب شیعہ ہیں اور سماجی معاملات میں ان کے خیالات روایت پسندوں کے سے ہیں۔ انہیں اگرچہ عراقی شیعوں میں سب سے مقبول سیاسی رہنما سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سنیوں میں اعتدال پسندوں کو ساتھ ملا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||