بغداد دھماکوں میں پندرہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کے مطابق بغداد میں لگاتار تین کار بم دھماکوں میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ کارادہ ڈسٹرکٹ میں علی الاصبح ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک دھماکہ ایک شیعہ مسجد کے نزدیک ہوا جبکہ دوسرا ایک عوامی حمام کے باہر ہوا۔ یہ دھماکے بدھ کے روز بغداد میں بیک وقت ہونے والے پانچ کار بم دھماکوں کے چوبیس گھنٹے کے بعد ہوئے ہیں جن میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عراق میں یہ کار بمم دھماکے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب برسلز میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں عراق کی تعمیر نو پر غور ہو رہا ہے۔ اس کانفرنس میں عراق کے وزیر اعظم ابراہیم الجعفری نے عراق کو دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی حالت سے تعبیر کیا۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ عراق کے ہمسایہ ملکوں خاص طور پر شام کو عراق میں مزاحمت کو ختم کرنے میں بھر پور مدد کرنا ہو گی۔ برطانیہ میں شام کے سفیر سمی خیامی نے کہا کہ ان کا ملک اس سلسلے میں جو کچھ کرسکتا ہے کر رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||