عراق: بم حملوں میں 31 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مختلف واقعات میں کم سے کم 31 لوگ ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا حملہ عراق کے شمالی شہر اربیل میں ہوا جس میں کم سے کم تیرہ پولیس اہلکار ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ اس حملے سے پہلے اربیل جو کرد آبادی کا شہر ہے باقی شہروں کی نسبت زیادہ پر سکون خیال کیا جا تا تھا۔ کرکوک میں پولیس کے ایک ناکے پر خود کش حملے میں چار عراقی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ مختلف واقعات میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ عراق میں انتخابات کے بعد مزاحمت کارروں نے پولیس میں شامل ہونے والے عراقیوں کا اپنے نشانہ پر رکھا ہوا ہے اور پولیس تھانوں کے علاوہ پولیس میں بھرتی ہونے والوں کے تربیتی مراکز اور ان کو لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اٹھائیس اپریل کو عراق میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اربیل شہر میں خود کش حملہ آور نے ٹریفک پولیس کے ایک ہجوم پر اس وقت حملہ کیا جب وہ حاضری کے لیے اکھٹے ہو رہے تھے۔ سیکیورٹی گارڈز نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں کار پر گولیاں چلائیں لیکن حملہ آور کار کو پولیس اہلکاروں کے ہجوم میں لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ مقامی حکام کے مطابق جس وقت خودکش کار بم حملہ کیا گیا اس وقت ٹریفک پولیس کے دو سو کے قریب زیر تربیت اہلکار موقع پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ مزاحمت کاروں بغداد کے شمالی ایریا بیا میں واقع تھانے پر کار بم اور گرینڈوں سے حملہ کیا۔ ایک روز قبل ہی بغداد میں مزاحمت کارروں نے ہوٹل پر حملہ کر کے تئیس افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||