BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 June, 2005, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عالمی حمایت عراق کےلیےنیا موڑ‘
عراقی وزیر اعظم ابراھیم جعفری یورپی یونین کے جو مینول بروسو اور کونڈولیزا رائس
بین الاقوامی برادری ایک نئے عراق کی تعمیر کے لئے پابند ہے
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ عراق کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی حمایت ملک کے لیے ایک’ نیا موڑ‘ ثابت ہوگی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی آسان عمل نہیں ہوگا عراق کو اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں میں لینا ہوگا۔

مسٹر عنان برسلز میں ہونے والی کانفرنس کے اختتام پر خطاب کر رہے تھے جس میں عراق کی حمایت سے متعلق اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اس کانفرنس کا اہتمام یورپی یونین اور امریکہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا جس میں 80 سے زائد ممالک اور تنظیموں نے شرکت کی۔

مسٹر عنان نے امید ظاہر کی کہ حمایت کے اس پیغام سے طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کرنے والے عراقی عوام کو کچھ راحت ملے گی۔

اس کانفرنس کے دوران مسٹر عنان نے مندوبین سے کہا کہ بین الاقوامی برادری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عراق کی تعمیر نو کا کام کامیاب رہے۔

انہوں نے ایک ایسے اشتراک کی اپیل کی جو ایک عام عراقی کی روز مرہ کی زندگی کے لیے سودمند ہو۔

لگسمبرگ کے وزیر خارجہ جین ایسلبورن نے کہا کہ یورپی یونین عراق کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری استحکام ، جمہوریت ، انسانی حقوق ، اور پڑوسیوں کے ساتھ مثبت تعلقات کے ساتھ ایک نئے عراق کی تعمیر کے لیے پابند ہے۔

عراقی افسران نے اپنے اصلاحاتی منصوبوں کا خاکہ پیش کیا اور دوسرے ممالک سے اپیل کی کہ وہ ان کوششوں میں ان کی مدد کریں۔

حتمی بیان میں عراق کے پڑوسی ممالک کے رول کا بھی تذکرہ کیا گیا۔

کانفرنس نے سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عراق اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان مزید تعاون کی اپیل کی اور تمام ملکوں سے اپیل کی کہ وہ عراق کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کریں۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے براہ راست شام سے اپیل کی کہ شدت پسندوں کو عراق میں آنے سے روکنے میں اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالے۔

یورپی یونین اور امریکہ کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد عراق کو ایک موقع دینا تھا جس میں وہ دنیا کو یہ بتا سکے کہ اسے کس طرح کی اور کتنی مدد کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ اور یورپ کے لیے بھی ایک موقع تھا کہ وہ یہ دکھا سکیں کہ عراق کے معاملے پر اختلافات ماضی کی بات ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ جوسکا فشر نے کہا’ چاہے آپ جنگ کے حق میں ہوں یا اس کے خلاف اہم بات یہ ہے کہ عراق میں جمہوری عمل شروع ہو گیا ہے‘۔

محترمہ رائس کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری تین اہم محاذوں پر عراق کی مدد کرے گی جن میں سیاسی اصلاحات ، اقتصادی تعمیر نو اور سکیورٹی کو بہتر بناناشامل ہے۔

برسلز کا یہ اجلاس عطیہ دینے والوں کی کانفرنس نہیں تھی یہ کانفرنس اگلے ماہ اردن میں ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد