عراق: آپریشن میں 50 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے ترجمان نےکہا ہے کہ جنوبی عراق میں شام کے ساتھ ملنے والے سرحدی علاقے کارابلہ میں آپریشن کے دوران پچاس مزاحمت کاروں کو ہلاک جبکہ تقریباً ایک سو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان کرنل جیفری پول نے بتایا کہ ’تقریباً پچاس کے قریب مزاحمت کاروں کو مارا جا چکا ہے‘۔ یہ آپریشن عراقی صوبے انبار میں جمعہ کی صبح شروع ہوا اور عینی شاہدین کے مطابق کارابلہ اور قائم نامی علاقوں میں شدید لڑائی ہوئی ہے۔ آپریشن کے دوران امریکی طیاروں نے مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر بم گرائے۔ ترجمان کے مطابق آپریشن سپیئر میں کوئی فوجی یا عام شہری ہلاک نہیں ہوا لیکن عراقی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران دس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اس آپریشن میں ایک ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں اور اس کا مقصد شام کے سرحدی علاقے میں موجود غیر ملکی جنگجوؤں کا صفایا کرنا ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آپریشن کے دوران ان چار عراقیوں کو برآمد کر لیا جنہیں یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ ان افراد کو دیوار کے ساتھ زنجیروں سے باندھا گیا تھا۔ اس آپریشن کے ساتھ ساتھ امریکی فوج نے ایک اور کارروائی ’آپریشن ڈیگر‘ کے نام سے شروع کی ہے جس میں عراقی اور امریکی افواج بغداد کے شمال مغرب میں واقع باغیوں کے ایک اڈے پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ ایک ماہ میں یہ تیسری بڑی کارروائی ہے کیونکہ امریکی فوج سمجھتی ہے کہ مزاحمت کار یہاں ہر کسی کو اپنی کاروائی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اس سے قبل ایک خود کش کار بم دھماکے میں پانچ عراقی ہلاک ہوگئے جن میں تین فوجی بھی شامل ہیں۔ ادھر ہبانیہ میں بھی مسجد کے باہر ایک بم دھماکے میں چار عراقی ہلاک کر دیے گئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||