 |  صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر دونوں ہی حملے کے قبل از وقت فیصلے کی تردید کرتے ہیں |
امریکی کانگریس ارکان کا ایک گروپ عراق پر حملے کے وقت کے بارے میں صدر بش کے فیصلے کے بارے میں تحقیق کر رہا ہے۔ یہ تحقیق ایک ایسے برطانوی میمو کے انکشاف کے بعد شروع کی گئی ہے جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ صدر بش عراق پر حملے کا فیصلہ اصل حملے سے آٹھ ماہ قبل ہی کر چکے تھے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کی جانے والی سماعت اگرچہ غیر سرکاری ہے تاہم یہ اتفاقاً ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب عراق میں امریکہ کی کوششوں کے لیے امریکیوں کی حمایت میں کمی آ رہی ہے۔اس سلسلے میں پبلک فورم میں ایک سو ڈیموکریٹس ارکان حصہ لیں گے اور اور وائٹ ہاؤس سے مطالبہ کریں گے کہ اس برطانوی میمو کی وضاحت کی جائے۔ صدر بش اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نےصدام پر حملے کا فیصلے قبل از وقت کر لیا تھا۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے 23 جولائی سن دو ہزار تین کے اس مبینہ میمو کی اشاعت برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں ہوئی ہے اور اخبار کا کہنا ہے کہ اسے یہ میمو برطانوی دفتر خارجہ کے ایک سابق معاون سے حاصل ہوا ہے۔ اس میمو میں برطانوی وزیرِخارجہ جیک سٹرا کے حوالےسے کہا گیا ہے کہ صدر بش فوجی کارروائی کے لیے ذہن بنا چکے ہیں، اگرچہ ابھی وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔ اخبار سنڈے ٹائمز ہی میں اس ہفتے شائع ہونے والے ایک اور میمو سے برطانوی وزرا سے یہ کہے جانے کا بھی انکشاف ہوتا ہے کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ عراق کے خلاف جنگ کا قانونی جواز تلاش کیا جائے۔ |