جنگ کےحامی رکن کانگریس کا ’یُوٹرن‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی جنگ کی حمایت کرنے والے امریکی کانگریس رکن جنہوں نے فرینچ فرائیز کا نام فری ڈم فرائیز رکھنے کی مہم چلائی تھی اب امریکی فوجی دستوں سے وطن واپس آنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ریپبلکن نمائندے والٹر جونز ایسا قانون پیش کرنے والے ہیں جس میں عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کیا جائے گا۔ 2003 میں کیپٹل ہل کے ریستورانوں میں ’فرینچ فرائیز‘ کا نام بدل کر فری ڈم فرائیز رکھا گیا تھا اور فرینچ ٹوسٹ کو بھی’فری ڈم ٹوسٹ‘ کہا جانے لگا تھا۔ مسٹر جونز کا کہنا ہے ’میں نے عراق میں فوجی دستے بھیجنے کے حق میں ووٹ دیا تھا اور مجھے لگتا ہے کہ ہم جو کچھ کر سکتے تھے وہ ہم نے کیا‘۔ ’اب مجھے لگتا ہے کہ جس مقصد سے ہم عراق گئے تھے وہ غلط ثابت ہوا یعنی نہ تو وہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ملے اور نہ ہی یہ ثابت ہوا کہ عراقی جوہری ہتھیار بنا سکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھ میں یہ تبدیلی ناصریہ میں ہلاک ہونے والے ایک امریکی سارجنٹ کی تدفین میں شرکت کے بعد آئی جہاں اس فوجی کی بیوہ کی زبانی اس فوجی کے آخری خط کو سن کر میں جذباتی ہو گیااور اس کے بعد سے یہ واقعہ میرے ذہن پر حاوی ہے‘۔ مسٹر جونز نے عراق میں ہلاک ہونے والے 1300 سے زائد امریکی فوجیوں کے گھر والوں کو تعزیتی خط لکھے ہیں اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تصاویر ان کے دفتر کے باہر لگی ہوئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||