جنگی سازو سامان پر خرچہ بڑھ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں جنگی سازو سامان پر اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس اضافے کی بڑی وجہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ ہے۔ امریکہ ہتھیاروں پر خرچ کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جس کا فوجی سازوسامان پر عالمی خرچے میں تناسب 47 فیصد ہے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ (سپری) جو دنیا میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق ایک مستند آواز سھمجی جاتی ہے، نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2004 میں جنگی سازو سامان پر عالمی خرچہ ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جنگی سازو سامان پر خرچہ دنیا کی آبادی کے تناسب سے لحاظ سے ہر شخص کے لیے 162 امریکی ڈالر کا اسلحہ خریدا جاتا ہے۔ اسلحہ کی خرید و فروخت میں اضافہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اعلان کرنے کے بعد ہوا ہے۔ جنگی سازو سامان میں اضافہ کی دوسری بڑی وجوہات میں چین اور بھارت کا دفاعی بجٹ میں اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 2002 سے 2004 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 238 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں جو تمام چین سمیت تیسری دنیا کے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔ سپری کی مطابق 2004 میں فوجی سازوسان پر اخراجات میں آٹھ فیصد اضافہ ہواہے جس سے جنگی سازو سامان پر خرچہ 1987 اور 1988 سے بھی بڑھ گیا ہے جب دنیا میں سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||