امریکہ مسلمان دل نہیں جیت سکا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پینٹاگون کے ایک مشاورتی پینل نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اسلامی دنیا کا دل جیتنے کی لڑائی ہار رہا ہے۔ ڈیفنس سائنس بورڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ میں عوامی سطح پر اس بات کا اعلان کہ وہ مسلمان دنیا میں جمہوریت لائے گا محض ’اپنے مفاد کے لیے کی جانے والی منافقت‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر امریکہ یہ چاہتا ہے کہ مسلمان تحمل و برداشت کو سمجھیں تو اسے مسلمانوں کو یہ یقین دہانی کرانی پڑے گی کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی طرزِ زندگی اور اندازِ فکر کے سامنے سر جھکا دیں۔ امریکہ کو رپورٹ میں یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی روش میں تبدیلی لائے۔تاہم اس دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف تعلقاتِ عامہ کو سدھارنا کافی نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’مسلمان ہماری آزادی سے متنفر نہیں ہیں بلکہ وہ ہماری پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت اس بات پر معترض ہے کہ بقول اس کے امریکہ یکطرفہ طور پر اسرائیل کی حمایت اور فلسطینیوں کے حقوق کی مخالفت کرتا ہے۔‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی نظر میں امریکہ جابرانہ حکومتوں کی ہمیشہ سے اور پہلے سے بڑھ کر حمایت کرتا ہے ان حکومتوں میں مصر، سعودی عرب، اردن، پاکستان اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔ ’لہذا جب امریکہ ایسے مسلمان معاشروں میں جہموریت لانے کی بات کرتا ہے تو اسے محض مفاد پرستانہ منافقت کی طرح دیکھا جاتا ہے۔‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان اور عراق میں امریکی جنگ کی وجہ سے امریکہ کے دشمنوں کا قد کاٹھ کم ہونے کی بجائے بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی رابطہ مہم بحران کا شکار ہے اور یہ کہ وائٹ ہاؤس کو فوری طور پر موثر ابلاغ کا شعبہ قائم کرنا چاہیئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کہتے ہیں کہ یہ رپورٹ سرکاری پالیسی کا درجہ تو نہیں رکھتی لیکن اس سے سرکاری حلقوں میں پائے جانے والی تشویش بحر حال اجاگر ہوگئی ہے۔ ڈیفنس بورڈ پینٹاگون کے مقرر کردہ عام ماہرین پر مشتمل ہے اور سائنسی، تکنیکی اور دیگر امور پر محکمانہ مشاورت کا کام کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||