| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق پر امریکی پالیسی کا دفاع
امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے گزشتہ سال اقوام متحدہ میں اپنی اس رپورٹ کو حق بہ جانب قرار دیا ہے جس میں انہوں نے پر زور طریقے سے کہا تھا کہ عراق دنیا کے لۓ اس وجہ سے خطرہ ہے کہ اس کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں۔ کولن پاؤل نے کہا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار تھے جنہیں وہ 1980کی دہائی میں استعمال کرچکا تھا اور یہ یقین دلانے سے انکار کررہا تھا کہ اس نے انہیں ضائع کردیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے اس تازہ بیان سے پہلے واشنگٹن کے ایک نامور گروپ نے بش انتظامیہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے عراقی خطرے کو گمراہ کن انداز میں پیش کیا تھا۔ الزام لگانے والوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس امر کی کوئی شہادت نہیں ملی کہ عراق کے معزول صدر صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار دہشت گردوں کو دینے والے تھے۔ ادھر ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے والوں کی چار سو افراد پر مشتمل ایک ٹیم کو عراق سے واپس بلایا جا رہا ہے۔ امریکی اہلکاروں نے اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تصدیق کی ہے کہ اس ٹیم کے ذمے جو مشن تھا اسے اب ختم کیا جا رہا ہے۔تاہم اس بات پر اصرار کیا گیا ہے کہ ٹیم نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ اخبار نے کہا تھا کہ چودہ سو افراد پر مشتمل ایک گروپ میں سے ان چار سو افراد کو عراق میں میزائل لانچر تلاش کرنے پر مامور کیا گیا تھا۔ ان کے ذمے یہ بھی تلاش کرنا تھا کہ اس طرح کی اور کون کون سی اشیاء یا آلات عراق میں موجود ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||