BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 November, 2004, 03:24 GMT 08:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کی فوجی دادی
News image
بس مجھے وہاں جانا تھا، سو جا رہی ہوں: لینا ہیڈکس
امریکہ کے شہر اوکلاہوما کی ایک بہتّر سالہ دادی جو عراق میں موجود امریکی فوج کے پاس جا رہی ہیں، برسرِ پیکار فوجیوں میں شاید سب سے زیادہ عمر کی خاتون فوجی کہلائیں گی۔

لینا ہیڈکس جو تیس سال تک ایک فوجی کی اہلیہ رہی ہیں کہیں ہیں کہ انہوں نے عراق کے مشن کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’میں اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی کیونکہ مجھے ہمیشہ اس لیے پیچھے رہنا پڑا کہ مجھے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنا تھی۔‘

ان کے پانچ بچے ہیں، آٹھ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں اور تین پڑپوتے ہیں۔ سب بچوں نے انہیں منع کیا کہ وہ عراق مشن پر نہ جائیں لیکن مز ہڈکس اپنی بات پر قائم رہیں۔

لینا ہڈکس محکمۂ دفاع کے آرمی اور ایئر فورس ایکسچینج کے شعبے میں کام کریں گی جو فوجی اڈوں پر ایسی دکانیں چلاتا ہیں جہاں امریکی فوجیوں کو چیزیں بیچی جاتی ہیں۔

اپریل دو ہزار تین میں اس ایکسچینج نے عراق میں اپنا پہلا سٹور کھولا تھا اور عراق سے باہر مز ہڈکس اس طرح سٹور پر پہلے بھی کام کر چکی ہیں۔

ایکسچینج کے جوڈ آنسٹی کہتے ہیں کہ مز ہڈکس غیر معمولی کردار کی حامل ہیں۔ ’وہ بڑی زوردار خاتون ہیں اور اپنی مثال آپ ہیں۔‘

لینا ہڈکس کا ایک طبی معائنہ ہونا باقی ہے جس کے بعد وہ عراق جا سکیں گی۔ شاید ان کے وہاں پہنچنے میں ایک ماہ لگ جائے۔

وہ کہتی ہیں ’ممکن ہے عراق میں ایسا وقت بھی آئے کہ میں خوفزدہ ہو جاؤں لیکن ابھی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد