عراق کی صورتحال پر ورلڈ بینک کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ بینک کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں جاری تشدد کے واقعات کی وجہ سے تعمیر نو کا کام طے شدہ شیڈول سے بہت سست رفتاری سے ہورہا ہے۔ بی بی سی نیوز آن لائن سے بات کرتے ہوئے بینک کے صدر جیمز ولفینسنز نے کہا کہ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ سیکورٹی کے وجہ سے تعمیر نو کا کام کرنے والے افراد کا ملک میں کام جاری نہ رکھ سکنا ہے۔ عراق میں تعمیر نو کے پروجیکٹس کے لئے تقریباً تیتیس ارب ڈالر درکار ہیں اور اتحادی فوجیں عراقی عوام کا دل جیتنے کے لئے اسے بہت اہمیت دیتی آئی ہیں۔ مسٹر ولفینسنز نے کہا کہ خود ان کا اپنا عملہ عراق میں سیکورٹی کی وجہ سے کام نہیں کر سکا اور انہیں عراقی حکام سے بات چیت کے لئے ویڈیو کانفرنسنگ کی ٹیکنالوجی استعمال کرنا پڑی جو اب کئی اور کمپنیاں بھی استعمال کررہی ہیں کیونکہ سیکورٹی کے اوپر اٹھنے والے اخراجات بہت بڑھ رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ عراق میں کام کرنے والی ساری کمپنیوں کے بارے میں تو یہ نہیں کہہ سکتے لیکن اگر کسی کمپنی کے عملے کو کسی ملک میں نشانہ بنایا جا رہا ہو اور وہ مارے جا رہے ہوں تو کسی بھی کمپنی کے لئے ایسے ماحول میں کام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مسٹر ولفینسنز کا کہنا تھا کہ ماضی میں بوسنیا اور غزہ جیسے علاقوں میں تو لوگ رسک لینے کے لئے تیار تھے لیکن عراق میں خاص طور پر ورلڈ بینک کے عملے کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اس لئے وہاں کام کرنا اور بھی مشکل ہے۔ مسٹر ولفینسنز نے عراق میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||