BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی تعمیر نو کے لئے امداد کی اپیل
برسلز یورپی یونین کے ہیڈ کوراٹر پر عراقی پرچم
80 سے زائد ممالک اور تنظیموں کے سینئیر افسران برسلز میں جمع ہوئے ہیں
عراقی حکومت بدھ کے روز برسلز میں ہونے والی کانفرنس میں عالمی رہنماوں سے عراق میں تعمیر نو کے لئے امداد کی اپیل کررہی ہے۔اس کانفرنس میں دیگر رہنماوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی شرکت کریں گے۔

عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کو پھر سے عراق کے امدادی کاموں میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ عراق کوامداد دے۔

امریکہ اور یورپی یونین کے افسران کا کہنا ہے کہ وہ عراق کو قرضہ دینے والوں سے اپیل کریں گے کہ وہ اس کا قرضہ یاتو معاف کر دیں یا پھر اس میں کمی کر دیں۔

عراق کے ایک سینئیر افسر نے کہا کہ عراق میں بد عنوانیاں تباہ کن حد تک پھیل چکی ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حسین الشہرستانی نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے بات کرئے ہوئے کہا’ بدعنوانیوں کا یہ حال ہے کہ اس کی روک تھام سے متعلق سینئیر افسران تک بدعنوانیوں میں ملوث ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ کئی افسران کو برخاست کر دیا گیا اور کئی شعبوں میں دئیے گئے ٹھیکوں پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔

80 سے زائد ممالک اور تنظیموں کے سینئیر افسران عراق کے تئیں حمایت ظاہر کرنے کے لئے برسلز میں جمع ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے ساتھ یورپی یونین کے خارجی امور کے چیف خاوئیر سولانہ اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گی۔

برسلز میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ عطیہ دینے والوں کی کانفرنس نہیں ہے وہ کانفرنس اگلے ماہ اردن میں ہونے والی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ عراق کی نئی حکومت کے لئے یہ پہلا موقع ہے جب وہ شدت پسندوں کے حملوں کا سامنا کرتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کو مضبوط کرنے کے اپنے منصوبوں کے لئے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

اس کے علاوہ یورپ اورامریکہ کے لئے بھی یہ دکھانے کاایک بڑا موقع ہے کہ عراق کے مسلے پر اختلافات ماضی کا قصہ ہیں۔اور یہ بات اس سال کے اوائیل میں امریکی صدر جارج بش کے برسلز کے دورے کے دوران طے ہو گئی تھی۔

اس کانفرنس میں عراق کو اپنے پڑوسی ملکوں مثلاً شام ، ایران اور کویت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ان سبھی ممالک کے وزرا خارجہ برسلز آئے ہیں۔

اس کانفرنس میں ان ممالک سے اپیل کی جائے گی کہ وہ نئی عراقی حکومت کو رسمی طور پر تسلیم کریں اور اپنی سرحدوں سے شدت پسندوں کو عراق میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے مزید کاروائی کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد