عراق پالیسی کی عوامی حمایت: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انتخابات میں ان کی کامیابی سے ثابت ہوا ہے کہ امریکی ووٹر ان کی ’عراق پالیسی‘ کی حمایت کرتے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ اس بات کی ضرورت نہیں کہ ان کی انتظامیہ کے اہکاروں کو جنگ سے پہلے کی منصوبہ سازی کے دوران ہونے والی غلطیوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں کہی ہے جو اتوار کے روز اخبار واشنٹگٹن پوسٹ میں شائع ہوا ہے۔ جارج بش جمعرات کو امریکہ کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے کہ جنگِ عراق میں ہونے والی غلطیوں یا عراق میں وسیع تباہی سے متعلق ہتھیاروں کے بارے ناقص معلومات کے لئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ صدر بش کا جواب تھا: ’ہاں، جوابدہی کا ایک موقع تھا، اور وہ دو ہزار چار کے الیکشن تھے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’اور امریکی عوام نے عراق میں جو کچھ ہورہا تھا اس کے بارے میں مختلف جائزوں کو سنا، اور انہوں نے دونوں امیدواروں کو پرکھا، اور انہوں نے مجھے منتخب کیا، جس کے لئے میں شکرگزار ہوں۔‘ جارج بش نے ایسے سوالوں کے جواب سے گریز کیا کہ کب تک امریکی افواج عراق سے واپس آجائیں گی۔ حال ہیں میں امریکہ وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا تھا کہ امریکی فوج عراق سے سال کے اختتام تک واپس آجائے گی۔ جارج بش نے کہا: ’میں ایک معاشرے کے بارے میں حقیقت پسندی میں یقین رکھتاہوں جس پر ایک جابر شخص نے حکمرانی کی ہے اور اب جمہوریت بننے کی کوشش کررہا ہے۔ اور اسی وجہ سے میں دوسرے لوگوں کے برعکس صبر سے کام لے رہا ہوں۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں امریکہ اب تک کیوں ناکام رہا ہے، جارج بش کا کہنا تھا: ’کیونکہ وہ چھپا ہوا ہے۔‘ صدر بش نے کہا کہ وہ ’خوش‘ ہیں کہ اسامہ بن لادن پوری دنیا میں کی جانے والی کوشش کی وجہ سے سمٹ گئے ہیں۔ جارج بش نے کہا: ’میں بہت خوش ہوں گا جب اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہوگا۔‘ جمعرات کو واشنگٹن میں ایک تقریب کے دورے جارج بش صدارت کے دوسرے چار سالہ دور کے لئے حلف اٹھائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||