شام مطلوبہ افراد حوالے کرے: عراق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی عبوری حکومت نے شام کی حکومت سے باضابطہ طور پر یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو اس کے حوالے کرے جو شام کی زمین استعمال کرتے ہوئے عراق میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ عراق کی طرف سے مانگے جانے والے لوگوں میں سابق عراقی لیڈر صدام حسین کے سوتیلے بھائی صباوی اور عراق کے سابق انٹیلیجینس چیف طاہر ہبوش شامل ہے۔ عراق کی عبوری انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ اس کے ہمسایہ ملک شام اور ایران عراق میں جاری مزاحمتی کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ شام کے حکام نے عراق کی عبوری حکومت کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور ان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ شام کے سرکاری اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ عراق کی عبوری حکومت کی جانب سے مبینہ وڈیو جس میں شام پر مزاحمت کارروں کی مدد کا الزام ہے، جعلی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||