BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 May, 2005, 05:54 GMT 10:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طارق عزیز: عالمی مدد کا مطالبہ
طارق عزیز
طارق عزیز نے دو سال پہلے خود کو امریکی حکام کے حوالے کردیا تھا۔
برطانیہ کے ایک اخبار نے ایسے چند خطوط شائع کئے ہیں جو اخبار کے مطابق عراق کے سابق نائب وزیراعظم طارق عزیز نے جیل سے لکھے ہیں۔

یہ خطوط جو لندن کے اخبار آبزرور نے شائع کئے ہیں، ’عالمی رائے عامہ‘ کے نام لکھے گئے ہیں اور ان میں طارق عزیز نے اپنی ’کٹھن صورتحال‘ کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے۔

طارق عزیز بغداد کے باہر ایک امریکی جیل میں قید ہیں جہاں مبینہ طور پر صدام حسین کو بھی رکھا گیا ہے۔

ان خطوط میں مسٹر عزیز نے کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں غیر منصفانہ طور پر قید میں رکھا جارہا ہے۔

مسٹر عزیز نے ایک خط میں جو اخبار کے مطابق انہوں نے اکیس اپریل کو لکھا، لکھا ہے، ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہماری مشکل صورتحال کے حل کے لئے مداخلت کی جائے۔ ہمیں جس طرح رکھا جارہا ہے یہ بین الاقوامی قانون ، جینیوا کنویشن اور عراقی قانون کے منافی ہے۔‘

مسٹر عزیز ، جو کئی برسوں تک عالمی سطح پر صدام حکومت کے نمائندہ کے طور پر جانے جاتے تھے، اس وقت عراق کی انقلابی کمانڈ کونسل کے رکن بھی تھے۔ ان پر ایک بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے ایران، کویت اور خود عراق میں جنگی جرائم کا الزام ہے۔

طارق عزیز کا نام امریکہ کی طرف سے جاری کردہ ان تاش کے پچپن پتوں میں بھی تھا جو عراق میں امریکہ کو مطلوب افراد کے ناموں پر مشتمل تھے۔

مسٹر عزیز نے دو برس پہلے خود کو امریکہ کے حوالے کردیا تھا اور اب صدام حسین کے ساتھ ان پر بھی مقدمہ چلایا جانا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد