خودکش حملے روکنے کی تیاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکومت نے تشدد کے واقعات روکنے کے لیے بغداد میں چالیس ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عراق کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں میں وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے اہلکار شامل ہوں گے۔ نامہ نگاروں کے مطابق بغداد میں عسکریت پسندوں کے خلاف یہ اب تک سب سے بڑی کارروائی ہے۔ دریں اثناء بغداد میں دو مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مئی میں امریکی اور عراقی اہلکاروں اور شہریوں پر مختلف حملوں میں چھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’بغداد کے گرد کنکریٹ کا ایسا حصار بنا دیا جائے گا جیسے کلائی کے گرد کڑا ہوتا ہے، انشااللہ کوئی اس حصار کو نہیں توڑ سکے گا‘۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ملک بھر میں کی جانے والی کارروائی کا پہلا مرحلہ ہے۔ عراق کے وزیر داخلہ نے کہا کہ اس کارروائی کے بعد عسکریت پسندوں سے نمٹنے میں حکومت کا کردار دفاعی کے بجائے جارحانہ ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||