BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 May, 2005, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد :سات امریکی فوجی ہلاک
کار بم دھماکہ
گزشتہ چند ہفتوں میں عراق میں دھماکوں سے سیکنڑوں افراد ہو چکے ہیں
عراق میں دو مختلف بم دھماکوں میں سات امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو روزہ تشدد کے دوران درجنوں عراقی بھی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

پہلے واقعہ میں تھرڈ انفینٹری ڈویژن کے فوجی اس وقت مارے گئے جب سڑک پر گشت کے دوران ایک بم دھماکہ ہو گیا۔

اس کے کچھ دیر بعد یہ اعلان کیا گیا کہ میرین ایکسپیڈیشنری فورس میں کام کرنے والے چار امریکی فوجی بھی ایک حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ بغداد سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی حصے میں ہوا۔

منگل کو ہونے والا دھماکہ علویہ کے علاقے میں صبح کے وقت ہوا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین گاڑیاں اور دھماکے کی جگہ واقع چند عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

علاقے میں رہنے والوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے ایک مشتبہ گاڑی دیکھی تھی جس کی جانچ کرنے کے لیے بم کو ناکارہ بنانے والی ٹیم اس کی طرف جا ہی رہی تھی کہ دھماکہ ہوگیا۔

اس دھماکے کی بارے میں مزید تفصیلات آ رہی ہیں۔

پیر کے روز اس طرح کے کار بم دھماکوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پہلا دھماکہ دارالحکومت بغداد میں ایک طعام خانے کے باہر ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ محمودیہ کے قصبے میں ایک شیعہ مسجد میں ہوا۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ مسجد میں ہونے والے اس دھماکے میں کئی بچے زخمی ہوگئے تھے۔

پیر کو ہی شمالی عراق کے شہر تل افر میں بھی دو دھماکے ہوئے تھے۔

عراق کے مختلف علاقوں میں تشدد کی یہ لہر ایک ایسے وقت اٹھی ہے جب امریکی اور عراقی فوجی بغداد کے مغربی علاقوں میں مزاحمت کاروں کے خلاف بڑی کارروائی میں مصروف ہیں۔

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس بڑی کارروائی کے دوران تیس گھنٹوں میں چار سو اٹھائیس مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ادھر عراق میں تشدد میں اضافے کے ساتھ ہی جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی بہتری کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے، عراقی حکومت کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے انتظام کا جائزہ لینے والی ایک بورڈ نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے تعاون سے بننے والا یہ نگران بورڈ کہتا ہے کہ عراقی وزراء کا مالی معاملات پر کنٹرول کمزور ہے اور ان کے کھاتوں کا انتظام بہتر نہیں ہے۔ بورڈ کے مطابق مختلف کمپنیوں کو معاہدے آزادانہ طور پر نہیں دیئے جاتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد