عراق: سیکیورٹی چیف ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مزاحمت کاروں سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیئے گئے نئے دستے کے کمانڈر وعیل ربائی کو بغداد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وزارت برائے قومی سلامتی کی سرگرمیوں کے سربراہ وعیل ربائی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ کام پر جا رہے تھے۔ میجر جنرل وعیل ربائی کو مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی کے سلسلے میں امریکی فوج اور عراقی وزارتوں کے درمیان رابطہ کاری کی قیادت سونپی گئی تھی۔ دریں اثناء عراق میں کار بم اور خودکش حملوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ بغداد ہی میں سینکڑوں امریکی اور عراقی فوجی شہر کے مغرب میں مزاحمت کاروں کی تلاش میں مصروف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تقریباً تین سو مزاحمت کاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ عراق میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران ہونے والے پُر تشدد واقعات کے نتیجے میں 550 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
عراق کے شمالی شہر طز خرماتو میں ایک کار بم دھماکے میں پانچ عراقی شہری ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کرکک کے جنوب میں اٹھاسی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر میں کونسل کے دفاتر کے قریب پیش آیا۔ دریں اثناء سمارا میں قائم امریکی فوجی اڈے پر تین خودکش حملہ آوروں کی کارروائی کو بظاہر ناکام بنا دیا گیا ہے۔ البتہ اس واقعہ میں تین امریکی فوجی اور دو عراقی ہلاک جبکہ نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عراقی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے حمایت یافتہ عراقی پولیس کے کمانڈو دستوں نے اُن علاقوں کی ناکہ بندی کر دی ہے جہاں سے مزاحمت کاروں نے حال ہی میں متعدد حملے کیے تھے۔ ان علاقوں میں وہ شاہراہ بھی شامل ہے جو بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابو غریب ضلع کو جاتی ہے۔ دریں اثناء ریڈیکل شیعہ مذہنی رہنما مقتدیٰ صدر سنی مذہبی رہنماؤں اور شیعہ ملیشیا میں مصالحت کاری میں مصروف ہیں تاکہ حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات کے بعد تناؤ میں کمی کی جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||