BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 May, 2005, 06:08 GMT 11:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سرحدی سکیورٹی سخت کریں گے‘
News image
ایران نے کہا ہے کہ وہ عراق کے ساتھ ملحقہ سرحد پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرے گا۔ اس نے مزاحمت کاروں کی حمایت اور مدد کرنے کی تردید بھی کی ہے۔

سرحد پر سکیورٹی انتظامات سخت کرنے کی بات اپریل 2003 میں سابق صدر صدام حسین کی معزولی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی کی طرف سے عراق کے پہلے دورے کے موقع پر کی گئی ہے۔

1980 کے عشرے میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ کے سبب ہزاروں جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

ایران کے وزیر خارجہ کمال خرازی نے ایسے وقت میں عراق کا دورہ کیا ہے جب موصل میں حملے اور پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔

ان حملوں میں سنی اور شیعہ مکتبِ فکر رکھنے والے مذہبی، سیاسی اور فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عراق میں اٹھائیس اپریل کو نئی حکومت کے اعلان کے بعد تین ہفتے کے دوران چار سو سے زائد افراد مزاحمت کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

کمال خرازی نے کہا ہے کہ سرحد پر سکیورٹی سخت کرنا اس ایرانی عہد کی کڑی ہے جس کے تحت وہ عراق کی نئی حکومت کی ہر طرح سے حمایت کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے یہ کہہ کر کہ شدت پسند ایران سے عراق میں داخل ہوتے ہیں، امریکہ اور عراقی حکومت کی طرف سے بارہا عائد کردہ الزامات کی تصدیق کر دی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس طرح کے اقدامات کی حمایت نہیں کرتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد