’سرحدی سکیورٹی سخت کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے کہا ہے کہ وہ عراق کے ساتھ ملحقہ سرحد پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرے گا۔ اس نے مزاحمت کاروں کی حمایت اور مدد کرنے کی تردید بھی کی ہے۔ سرحد پر سکیورٹی انتظامات سخت کرنے کی بات اپریل 2003 میں سابق صدر صدام حسین کی معزولی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی کی طرف سے عراق کے پہلے دورے کے موقع پر کی گئی ہے۔ 1980 کے عشرے میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ کے سبب ہزاروں جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ ایران کے وزیر خارجہ کمال خرازی نے ایسے وقت میں عراق کا دورہ کیا ہے جب موصل میں حملے اور پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ ان حملوں میں سنی اور شیعہ مکتبِ فکر رکھنے والے مذہبی، سیاسی اور فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عراق میں اٹھائیس اپریل کو نئی حکومت کے اعلان کے بعد تین ہفتے کے دوران چار سو سے زائد افراد مزاحمت کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ کمال خرازی نے کہا ہے کہ سرحد پر سکیورٹی سخت کرنا اس ایرانی عہد کی کڑی ہے جس کے تحت وہ عراق کی نئی حکومت کی ہر طرح سے حمایت کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ کہہ کر کہ شدت پسند ایران سے عراق میں داخل ہوتے ہیں، امریکہ اور عراقی حکومت کی طرف سے بارہا عائد کردہ الزامات کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس طرح کے اقدامات کی حمایت نہیں کرتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||