BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 May, 2005, 19:20 GMT 00:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: سینئر افسرکا بغداد میں قتل
عراق کےسینئر افسرکا قتل
عراق کے ایک سینئر افسرکوبغدادمیں قتل کر دیا گیا
عراق کی وزارتِ تجارت کے ایک سینئر افسر کو بغداد میں قتل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق سینئر افسر کی ہلاکت اہم حکومتی عہدیداران کو قتل کرنےکے سلسلہ کی کڑی میں ایک تازہ اضافہ ہے۔

قتل کیے جا نے والے علی موسٰی وزارتِ تجارت میں ڈائریکٹرجنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اتوار کی صبح اپنے ڈرائیور کے ساتھ دفتر جانے کے لیےنکل رہے تھے۔

مسلح حملہ آوروں کو ابھی تک شناخت نہیں کیا جا سکا ہے لیکن حملوں کا شبہ سنی باغیوں پر کیا جارہا ہے۔ شیعہ ا کثریت پر مشتمل عراق کی نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے بعد سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس حملے میں علی موسٰی، ان کے ڈرائیور کے علاوہ تین اور لوگ بھی زخمی ہوئےہیں ۔

بغداد میں پچھلے چند مہینوں میں ایک درجن سے زائد اہم حکومتی اہلکاروں کو
قتل کیا جا چکا ہے۔

تجارت کی وزارت کے ترجمان فراج الجعفری نےخبررساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ دارلحکومت کے ضلع السلام میں علی موسی کی گاڑی پر خودکار اسلحے سے گولیاں برسائیں گئیں۔

پچاس سالہ موسٰی صدام حکومت میں وزارتِ تجارت میں ایک جونئر اہلکار کی حیثیت سےاپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

عراق کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر حسین الشہرستانی نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے موسی کے قتل اور دیگر معصوم لوگوں کی ہلاکت حکومت کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے باز نہیں رک سکتی۔

عراق کی وزارت داخلہ کے ایک افسر کے علاوہ وزارتِ تیل کےایک انجینئر کو بھی گزشتہ ہفتے بغداد میں قتل کیاجاچکا ہے۔

پا رلیمنٹ کی سکیورٹی کمیٹی کے سر براہ جواد الملیکی نےصدام حکومت کے حامیوں اور اسلامی بنیاد پرستوں کو ان واقعات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہفتے کو عراق کی وزارت داخلہ کے پانچ کمانڈوز کو بغداد سےایک سواسّی کلو میٹر یعنی ( ایک سو بارہ میل دور) شمال میں واقع بائجان کے علاقے میں ہلاک کیاگیا۔

اے پی ایف نے پولیس کے ایک اور بیان کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ سنیچر کو سماراکے قریب مزید چھ کمانڈوز کوبھی ہلاک کیا جا چکا ہے۔

پچھلے تین ہفتوں میں پانچسوں سے زائد افراد کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا جس سےعراق میں بڑے پیمانے پر گروہی فسادات کے خطرات بڑھتےجا رہے ہیں۔

عراقی حکومت نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ملک کے سیاسی عمل اور نئے دستور کی تشکیل میں حصہ لیں ۔

یہ اپیل بغداد میں سنی علماءکےُاس اہم اجلاس کے صرف ایک دن بعد کی گئی ہے جس میں ایک ہزار سے زائد ممتاز سنی علماء نے شر کت کی تھی۔

بغداد میں بی بی سی کے نما ئندہ کے مطا بق سنیوں کی سیاسی جماعتیں پچھلے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے پر پچھتاوے کا اظہارکر رہی ہیں اور حکومت میں مکمل نمائندگی چاہتی ہیں۔

یہ سیاسی جماعتیں اس سال کے اختتام پر ہونےوالے انتخابات میں حصہ لینے کےلیے ایک نیا سیاسی اتحا د تشکیل دینے کی تیاریاں بھی کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد