عراق میں سنیوں کی مساجد بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغدادمیں سنیوں کے قتل کےمسلسل واقعات کے بعد تین روزہ احتجاج کے سلسلے میں علاقےکی سنی مساجد عبادت کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ حالیہ قدم اس وقت اٹھایاگیاہے جب عراق کی سنی آبادی اورشیعہ اکثریت کےمابین کھنچاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سنی علماء نےالزام لگایا ہے کہ قتل کےان بدر بریگیڈ نےاس الزام کی تردیدکی ہے۔ اس بریگیڈ کا نئی عراقی حکومت میں شامل ایک اہم جما عت سےتعلق ہے۔ تقریًبا ایک ہزارممتازسنیوں نے بغدادمیں ہونے والے ایک اجلاس میں ایک خیال کے مطابق با غیوں نے گروہی فسادات کوفروغ د ینےکے لیے کئی مہینوں سےعام شیعوں کے ساتھ شیعہ علماء کوبھی کار بم دھماکوں سے نشانہ عراق کی ایک اکثریتی سیاسی پارٹی کے رہنما عبدالعزیزحکیم نےعراقیوں سے متحدرہنےکی اپیل کی ہے۔ بی بی سی کے ا یک نمائندے کے مطابق سنیوں اورشیعہ اکثریت کےمابین کچھ حلقوں نےعراق میں ایک نئی خانہ جنگی کےخطرے کےخدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||