عراق خود کش حملہ، دس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی عراق میں ایک خود کش بم حملے میں کم از کم دس افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ اناہ نامی قصبے میں ہوا ہے جو کہ دارالحکومت بغداد سے دو سو ساٹھ کلومیٹر شمال مغرب میں شام کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے ایک عراقی فوجی اڈے کے باہر ایک گاڑی میں بیٹھ کر یہ دھماکہ کیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں عراقی نیشنل گارڈ میں بھرتی کے لیے عراقی افراد ایک قطار میں کھڑے تھے۔ یہ دھماکہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب تین ہزار سے زائد امریکی اور عراقی فوجیوں نے دریائے فرات سے جنوب کی جانب آپریشن شروع کر رکھا ہے تاکہ شدت پسندوں کی سپلائی لائنز کو منقطع کیا جاسکے۔ امریکی فوج نے ایک پل پر بھی قبضہ کرلیا ہے جس کے بارے میں خیال تھا کہ اسے فلوجہ میں سرگرم شدت پسند استعمال کرتے ہیں۔ بدھ کے روز امریکی فوج نے ایک گھر پر بمباری بھی کی تھی۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ جگہ عراق باغیوں کے زیر استعمال تھی۔ اناہ کے علاقے میں یہ اس طرح کا پہلا حملہ ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں بمبار کو شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔ عراق میں ایسے فوجی اڈے جہاں فوج یا پولیس کی بھرتیاں ہوتی ہیں، ماضی میں بھی حملہ آوروں کا نشانہ رہے ہیں اور عموماً وہاس موجود عراقی شہری ہی ان دھماکوں کا نشانہ بنتےہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||