عراق: پانچ دھماکے اٹھارہ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں بیک وقت پانچ کار بم دھماکوں میں اٹھارہ افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی شیعہ اکثریتی علاقے الشعلہ میں تین کار بم دھماکے ہوئے۔ ایک دھماکے شیعہ رہنما مقتدای الصدر کے دفتر کے باہر ہوا۔ عراق میں یہ کار بمم دھماکے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب برسلز میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں عراق کی تعمیر نو پر غور ہو رہا ہے۔ اس کانفرنس میں عراق کے وزیر اعظم ابراہیم الجعفری نے عراق کو دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی حالت سے تعبیر کیا۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ عراق کے ہمسایہ ملکوں خاص طور پر شام کو عراق میں مزاحمت کو ختم کرنے میں بھر پور مدد کرنا ہو گی۔ برطانیہ میں شام کے سفیر سمی خیامی نے کہا کہ ان کا ملک اس سلسلے میں جو کچھ کرسکتا ہے کر رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||