اسلحہ کی غیرذمہ دارانہ فروخت جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امیر ممالک کے گروپ جی ایٹ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ابھی تک ایسے ممالک کو اسلحہ فروخت کررہے ہیں جہاں انسانی حقوق کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ یہ الزام ’کنٹرول آرمز‘ نامی ایک تنظیم کی طرف سے شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ آکسفیم اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل جیسی بڑی فلاحی تنظیمیں بھی اس تنظیم کا حصہ ہیں۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب لندن میں جی-8 گروپ کے ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس ہونے والا ہے۔ اسی ہفتے ہونے والے اس اجلاس میں برطانیہ کی طرف سے اسلحے کی تجارت پر ایک عالمی معاہدے کی تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔ آرمز کنٹرول گروپ کی رپورٹ کے مطابق جی-8 ممالک نے سوڈان، جمہوریہ کونگو، کولمبیا اور فلپائن جیسے ممالک کو اسلحہ فروخت کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جی-8 کے رکن ممالک کی طرف سے اسلحے کی غیر ذمہ دارانے فروخت سے یہ ممالک غربت کے خاتمے ، انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری اور ملک میں استحکام جیسے مقاصد حاصل نہیں کرپا رہے۔ آکسفیم کے نمائندے سائمن گرے کا کہنا ہے کہ وہ اصل میں اسلحے کی فروخت پر مکمل پابندی کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ اس کی ذمہ دارانہ فروخت پر زور دینا چاہتے ہیں تاکہ ہر سال پوری دنیا میں اسلحے کے استعمال سے ہلاک ہونے والے پانچ لاکھ افراد کی تعداد کو کم کیا جاسکے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ نے 2003 سے لے کر 2004 تک سعودی عرب، اسرائیل اور کولمبیا کو اسلحہ فروخت کیا اور ان تینوں ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہت تشویش ناک ہے۔ یہ گروپ بدھ کے روز لندن کی سڑکوں پر ایک بڑے ٹینک سے اپنی رپورٹ تقسیم کررہا ہے۔ | اسی بارے میں جی آٹھ منصوبے پر عالمی ردِعمل12 June, 2005 | آس پاس ’غریب ترین ملکوں کے قرضے معاف‘11 June, 2005 | صفحۂ اول اسلحہ کی عالمی مارکیٹ سے خرید19 June, 2005 | آس پاس پاکستان میں چھوٹے اسلحے کی برائی08 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||