BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 June, 2005, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غریب ترین ملکوں کے قرضے معاف‘
افریقہ میں غربت
افریقہ میں غربت کی تشویشناک صورتحال
دنیا کے آٹھ بڑے ممالک (جی آٹھ) نے ایک تاریخی اعلان میں دنیا سے غربت کے خاتمے کے لیے قرضوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آج کے اعلان کے ایک ماہ بعد عالمی سربراہ اجلاس سکاٹ لینڈ میں ہو رہا ہے۔

اس اعلان سے دنیا کے غریب ترین ممالک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات ملے گئی۔ منصوبے کے مطابق دنیا کے اٹھارہ غریب ترین ممالک کے سو فیصد قرضے معاف کیے جائیں گے۔ قرضوں کی مالیت چالیس ارب ڈالر ہے۔

اعلان کے مطابق عالمی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ اور افریقی ترقیاتی بینک مل کر معافی کے لیے وسائل مہیا کریں گے۔ غریب ترین مقروض ممالک کی زیادہ تعداد ذیلی صحارہ افریقہ کی ہے۔

اگلے مہینے سکاٹ لینڈ میں غربت کے خاتمے کی مہم کے ہزاروں کارکن جمع ہوں گے۔ تاہم برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ غربت کے خاتمے کی مہم کو سربراہ اجلاس کا اہم ایجنڈا بنائے گا۔ برطانیہ کے وزیرِ خزانہ گورڈن برآؤن نے جی آٹھ کے ورزائے خزانہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

’ہم آج بہت ہی جامع منصوبہ پیش کرنے والے ہیں اس لیے کہ ورزائے خزانہ نے قرضوں، ترقی، صحت اور غربت کے مسائل پر ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے۔ میں آپ کے سامنے یہ اعلان کر رہا ہوں کہ جی آٹھ ملکوں نے غریب ملکوں کو دیے جانے والے قرضوں کو سو فیصد معاف کرنے کا فیصلہ کیاہے‘۔

گورڈن برآؤن نے اس اعلان میں یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ قرضوں کو ختم کرنے کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہوگا۔

غربت
کیا قرضے معاف کرنے سے غربت کا خاتمہ ہو سکے گا؟

قرضوں کے خاتمے کی مہم میں شامل ملکوں نے اس منصوبے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ تا ہم افریقی ممالک سے ملا جلا ردِعمل آیا ہے۔ جی آٹھ کے منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ یوگنڈا کو ہوگا۔ جب یوگنڈا نے 1998 میں قرضہ لیا تو اس نے ملک میں مفت بنیادی تعلیم کی سکیم شروع کی لیکن اس کے بعد ملک پر قرضے کا بوجھ اتنا بڑھ گیا کہ وہ انہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ قرضے کی معافی کا اعلان یوگنڈا جیسے غریب ممالک کی مدد کرے گا۔ تا ہم یوگنڈا کے صدارتی مشیر جان نیگنلڈا کہتے ہیں کہ قرضوں میں سہولت دینا مسئلہ نہیں ہے بلکہ افریقی ممالک کو اور بھی مشکلات در پیش ہیں۔ انھوں نے کہا:

’قرضوں کو معاف کرنا ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد ہماری عالمی مارکیٹ تک رسائی ہونی چاہیے تا کہ ہم قرضوں کے جال میں دوبارہ نہ پھنس جائیں‘۔

کینیا ان افریقی ممالک میں شامل نہیں ہے جنہیں قرضوں میں سہولت دی جائے گی۔ کینیا کی حکومت کے ترجمان کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کا ملک دوسرے افریقی ممالک کے مقابلے میں معاشی طور پر بہتر ہے لیکن اسے بھی قرضوں کی معافی کے منصوبے میں شامل کرنا چاہیے۔

زمبیا جو کہ اپنی آمدن کا سات فیصد قرضوں کی واپسی پر خرچ کرتا ہے اب تعلیم، صحت اور سماجی کاموں پر زیادہ خرچ کر سکے گا۔

اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ اٹھارہ غریب ترین ممالک کو چالیس ارب ڈالر کا قرضہ معاف کرنے سے ان پر ایک بڑا بوجھ کم ہوگا۔

گو کہ افریقی ممالک اس تاریخی منصوبے کے اعلان کا پر اپنے ردِعمل کا اظہار کر رہے ہیں لیکن برِاعظم کو غربت سے نکالنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہو گی۔

جی آٹھ ممالک میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور روس شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد