جی آٹھ منصوبے پر عالمی ردِعمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جی آٹھ ملکوں کے قرضوں کی معافی کے حالیہ اعلان پر دنیا بھر میں ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ افریقی ملکوں اور قرضے کے خاتمے کی مہم چلانے والوں نے اس اعلان کو محتاط خیر مقدم کیا ہے۔ آٹھ بڑے یا جی ایٹ ملکوں کے وزرائے خزانہ کے لندن میں ہونے والی اجلاس کے بعد دنیا سے غربت کے خاتمے کے لیے، اٹھارہ غریب ترین ممالک کے سو فیصد قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ قرضوں کی مالیت چالیس ارب ڈالر ہے۔ یہ اعلان آئندہ ماہ سکاٹ لینڈ میں ہونے والی جی ایٹ سربراہ اجلاس کی تیاری کا حصہ ہے۔ منصوبے کے مطابق عالمی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ اور افریقی ترقیاتی بینک مل کر قرضے کی معافی کے لیے وسائل مہیا کریں گے۔ غریب ترین مقروض ممالک کی زیادہ تعداد ذیلی صحارہ کے افریقہ ممالک کی ہے۔ ان قرضوں کی معافی سے مذکورہ غریب ترین ملک مجموعی طور پر ڈیرھ بلین ڈالر سالانہ بچائیں گے۔ غربت کے خاتمہ کی مہم چلانے والو نے اس اعلان کو خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس سکیم میں کئی اور غریب ممالک کو بھی شامل کیا جائے۔ اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیرِ خزانہ گورڈن براؤن نے کہا: ’اب بزدلی نہیں بلکہ بہادری کا وقت آگیا ہے‘۔ یوگنڈا کے وزیرِ اطلاعات نے اسے ایک مستحسن قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ایتھوپیا کے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ان کے ملک کی قرضے کی معافی ایک حوصلہ افزا قدم ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ نئی شرائط وابستہ نہیں ہوں گی۔ نکاراگوا اور زمبیا کے وزیروں نے کہا کہ اس اقدم کے نتیجے میں وہ صحت اور تعلیم کے منصوبوں پر زیادہ رقوم خرچ کر سکیں گے۔ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے آرچ بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو نے کہا ہے کہ ’یہ بہت اچھی ابتدا ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ ان دوسرے باسٹھ ملکوں کے بھی تمام قرضوں کو معاف کیے جائیں گے جو بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں‘۔ انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ افریقہ میں بہت سے حکمرانوں نے بیرونی مالی امداد کے نام پر ملنے والی رقوم میں خورد برد کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ مغرب نے خود اپنے مفادات کی وجہ سے ان میں سے کچھ حکمرانوں کو آگے بڑھنے میں امداد دی تھی۔ گلوکار باب گلڈوف، جنھوں نے عالمی غربت کے خلاف آٹھ موسیقی کے پروگراموں کا اہتمام کیا ہے، نے کہا کہ منصوبے کا اعلان ’فتح‘ ہے اور ’یہ ایک آغاز ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ اب 280 ملین افریقی لوگوں پر قرضوں کا کوئی بوجھ نہیں ہے لیکن ہمیں ایک ’مکمل‘ لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں قرضوں کی معافی، امداد کا دوگنا کرنا اور تجارتی انصاف شامل ہیں۔ ایکشن ایڈ کے رامیلی گرینہل نے کہا کہ یہ ان اٹھارہ ملکوں کے لوگوں کے لیے بہت اچھی خبر ہے جنہیں اس سے فوری فائدہ حاصل ہو گا۔ لیکن اس منصوبے کا چالیس اور مقروض ملکوں کے لاکھوں لوگوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ برطانیہ کی قرضوں کی جوبلی مہم کے نمائندہ نے کہا کہ اگرچہ ابھی مزید کام کی ضرورت ہے مگر منصوبے کا اعلان توقعات سے بڑھ کر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||