قرض اورجمہوریت دینے کے فیصلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست جارجیا میں جی ایٹ رہنماؤں کا اجلاس مشرقِ وسطیٰ جمہوریت کے فروغ اور افریقہ کے لیے قرضوں کی سہولت کے فیصلوں پر ختم ہوا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ جی ایٹ رہنما جمہوری تبدیلیوں کے خواہشمند مشرقِ وسطی کے عوام کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس پر اتفاق ہوا ہے کہ دنیا امریکہ جیسی دکھائی دینے لگے بلکہ اتفاق اس پر ہوا ہے کہ انسانیت کی عالمی اقدار کو فروغ دیا جائے۔ کانفرنس کے اختتام پر نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران مشرقِ وسطیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ خطے میں تبدیلیوں کے تقاضے زور پکڑ رہے ہیں اور اصلاحات کی ضرورت پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جی ایٹ کے رہنماؤں نے عراق کی مدد کے لیے جس ردِعمل کا اظہار کیا اس سے ان کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔تاہم وہ اس بات کی توقع نہیں کرتے کہ نیٹو ارکان عراق کے لیے مزید فوجی فراہم کریں گے۔ صدر بش نے صنعتی ترقی یافتہ ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تجارتی پابندیوں کو نرم کریں کیونکہ ان کہ بقول یہ پابندیاں ترقی پذیر ملکوں کے آگے بڑھنے میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں۔ صدر بش نے جی ایٹ ارکان کے اس مطالبے کے بارے میں کچھ نہیں کہا کہ امریکہ کو مشرقِ وسطٰی میں اصلاحات کے پروگرام کو مسئلہ فلسطین کے حل سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ صدر بش کے منصوبے کو عرب لیڈروں نے بھی مشرقِ وسطٰی پر امریکی اقدار نافذ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||