جی ایٹ اجلاس پر عراق کا سایہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ جی ایٹ کہلانے والے صنعتی ملکوں کے سربراہ تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت، غریب ملکوں کو قرضے اور قرضوں میں رعایت، معیشت اور مشرقِ وسطیٰ کےمعاملات پر غور کے لیے جمع ہیں تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کے ان مسائل پر عراق کے بادل چھائے رہیں گے۔ اتفاق سے اس اجلاس کا افتتاح بھی اسی دن ہوا ہے جس دن اقوام متحدہ نے عراق کے مستقبل کے بارے میں امریکہ اور برطانیہ کی ترمیم شدہ قرارداد مکمل اتفاق رائے سے مٹنظور کی ہے۔ امریکہ کی جنوبی ریاست جارجیا کے اس جـزیرے سی آئی لینڈ میں ہونے والا یہ اجلاس عراق کی جنگ کے بعد جی ایٹ کا دوسرا اجلاس ہے۔ اجلاس کی خاص بات سی آئی لینڈ کے ارد گرد کیے جانے والے کڑے حفاظتی انتظامات انتہائی کڑے ہیں اور پہلا احتجاج اس سے کوئی سو کلومیٹر دور ہوا ہے۔ جارجیا میں بی بی سی کے نامہ نگار راب واٹسن کا کہنا ہے کہ صدر جارج بش کا ارادہ تھا کہ اصل توجہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت پر مرکوز رکھی جائے۔ اگرچہ کچھ عرب لیڈر بطور مہمان بھی آئے ہیں تاہم اس سربراہ اجلاس کے مقاصد کو قدرے نرم رکھا گیا ہے۔ جی ایٹ کے دوسرے لیڈر یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ مشرق وسطیٰ پر جمہوریت تھوپنے کے درپے ہیں۔ عربوں کے علاوہ کچھ افریقی رہنما بھی یہاں مہمان ہیں جن کے لیے قرض میں فیاضی کے ساتھ سہولتیں ملنے کا امکان ہے۔ حکام نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ اسامہ بن لادن کے پیروکار امریکی سرزمین پر اس اہم اجلاس کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے جزیرے کے گرد سکیورٹی انتہائی کڑی رکھی گئی ہے اور صرف بے حد اہم شخصیات کو وہاں جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ پانچ میل لمبے اور دو میل چوڑے اس جزیرے تک خشکی سے جانے کا صرف ایک راستہ ہے جہاں کنکریٹ کی رکاوٹیں، لوہے کی باڑ اور جانچ کی چوکیاں بنا دی گئی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں پولیس اورنیشنل گارڈ سڑکوں اور پل پر گشت کررہے ہیں۔ فوجی ہوائی جہاز اور گشتی کشتیاں سمندر میں پہرے دے رہی ہیں۔ قریبی شہر سوانا میں کچھ باشندوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو دیکھ کر شہری خوفزدہ ہیں لیکن کچھ لوگوں کو اطمینان ہے کہ گلوبیت کے مخالفوں کے احتجاج اور مظاہروں کا کوئی اندیشہ نہیں رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||