BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 February, 2004, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: فوری قرضوں کی درخواست
چار بلین ڈالرز کی امداد
بجلی کی تنصیبات کی تعمیر ِ نو کی شدید ضرورت ہے
جنگ اور پابندیوں سے تباہ شدہ معیشت کی تعمیرِنو اور ترجیہی منصوبوں کی تکمیل کے لئے عراق نے امداد دینے والے اداروں سے چار ارب ڈالر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

عراق کے وزیر برائے منصوبہ بندی مہدی الحافظ نے ابو ظہبی میں ایک کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ عراق کی موجودہ ضروریات بہت زیادہ اور فوری نوعیت کی ہیں۔

امداد دینے والے اداروں کی کانفرنس ان تیتیس ارب ڈالرز کے مناسب استعمال کا جائزہ لے رہی ہے جن کا وعدہ عراق کی تعمیرِنو کے لئے پچھلے سال کیا گیا تھا۔

عالمی بنک نے خبردار کیا ہے کہ اس امداد کے غلط استعمال کا اندیشہ ہے جس کے نتیجے میں عراق کے معاشی مستقبل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اس کانفرنس میں عالمی بنک، عالمی مالیاتی فنڈ اور اقوام ِمتحدہ کے علاوہ چالیس ممالک سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

اس کانفرنس کا مقصد ان تیتیس ارب ڈالر کی امداد کے مناسب استعمال کا تعین ہے جس کا وعدہ امدادی اداروں نے پچھلے سال اکتوبر میں میڈرڈ میں کیا تھا۔ اس موقع پر عراق کی ضروریات کا تخمینہ چون ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔

عراق کے وزیر برائے منصوبہ بندی نے فرانسیسی خبر رساں ایجینسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈرڈ میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے یہ انتہائئ موزوں وقت ہے۔

عالمی بنک کے ایک سنیئر اہلکار جون سپیک مین نے اے ایف پی سے کہا ہے کہ عراق کو اقتدار کی منتقلی کی حتمی تاریخ تیس جون تک صرف پانچسو ملین ڈالر ملیں گے۔ انھوں نے مزید کہا ہمارا ارادہ تیس جون تک نصف ارب ڈالر فراہم کرنے کا ہے جو کہ اک خاطر خواہ رقم ہے۔

جون سپیک مین نے یہ بھی کہا عالمی بنک کو امداد کی عوام تک ترسیل میں بدعنوانی کی روک تھام کے لئے ضابطے بنانے پڑیں گے کیونکہ امدادی رقوم کے غلط اور غیر شفاف استعمال کا بڑا امکان ہے۔

غلط استعمال کا اندیشہ
 عالمی بنک نے خبردار کیا ہے کہ اس امداد کے غلط استعمال کا اندیشہ ہے

بی بی سی کی نمائندہ جولیا وہیلر نے متحدہ عرب امارات سے خبر دی ہے کہ اس کانفرنس کی نوعیت تکنیکی ہے اور اس کا مقصد امدادی رقوم کی تقسیم کے طریقۂ کار کا تعین ہے۔ اس کانفرنس کی ترجیح موجودہ منصوبوں پر عمل درآمد کے عمل کی ماہیت کو سمجھنا ہے ناکہ مزید عطیات کا حصول۔

جولیا وہیلر کے مطابق عراق کی معاشی اور سیاسی صورتحال کے بہتر ہونے سے متحدہ عرب امارات کی بہت سی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

ہزاروں کی تعداد میں ادارے جن میں سگریٹ اور کار بنانے والی کمپنیوں سے لے کر ائیر لائینز اور چاکلیٹ بنانے والے شامل ہیں‘ عراق کی متوقع انتہائی منافع بخش مارکیٹ میں اپنے کاروبار کے توسیع کی خواہشمند ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد