افریقی قرضے: احتجاج کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق گلوکار سر باب گیلڈوف نے اپیل کی ہے کہ آئندہ ماہ ایڈنبرگ میں ہونے والی جی ایٹ کانفرنس کے موقع پر افریقی قرضوں کے حوالے سے احتجاج کیا جائے۔ وہ ’ہے لٹریچر فیسٹول‘ کی سالانہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ا فریقہ میں جاری بحران کے حوالے سے مو سیقی کے آٹھ لائیو پروگرام بھی کریں گے۔ بوم ٹاؤن ریٹس کے گلوکار نے یہ درخواست ایک ملین لوگوں سے کی ہے پولیس اور کونسلز کے عہدیداران نے اس اپیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مگر سر باب گیلڈوف نے اس سلسلے میں کوئی معذرت نہیں کی۔ لیکن ان کی اس اپیل پر ’ہے لٹریچر فیسٹول‘ میں موجود سامعین نے تالیوں سےبھرپورحمایت کی۔ انہوں نے سامعین سے ایڈنبرگ کےاحتجاج میں ساتھ دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج سے عالمی رہنماؤں کو افریقہ پر واجب الادا وہ قرضےختم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جواس براعظم کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر رات اپنے گھر میں بیٹھ کر ٹی وی پر مزید لوگوں کومرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ باب گیلڈوف اس فیسٹول میں ہر سال شریک ہوتے ہیں۔ اس مر تبہ وہ اپنی ایک نئی کتاب’ گیلڈوف ان افریقہ‘ کی رونمائی کے لیے آئے۔ لیکن ان کی تقریر کا بڑا حصہ گزشتہ ہفتے اعلان کیے جانے والے موسیقی کے آٹھ لائیو پروگرام سے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ دورۂ افریقہ میں انہوں نے غربت کے شکار مفلوک الحال افریقی باشندوں کی حالت کا خود مشاہدہ کیا۔ گیلڈوف نے کہا کہ گیلینیگلز میں ہونے والی کانفرنس کے ذریعے افریقہ کو بھی باقی دنیا کی طرح انسانیت اور شعورکی اقدار سے ہم آہنگ کرنےمیں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ میں ہر روز بھوک و افلاس سے جتنے لوگ مر رہے ہیں اگر یورپ کے شہروں میں مرتے تو یہ مسئلہ ناشتے کی میز سے اجلاس کے کمرے تک پہنچنے کے دورانیے میں حل ہو چکا ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||