اسلحہ کی عالمی مارکیٹ سے خرید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں شاہی فوج کی جانب سے بین الاقوامی مارکیٹ سے اسلحہ کےحصول کے عمل کا آغاز کردیا گیاہے۔ انڈیا، امریکہ اور برطانیہ جو کے نیپال کو اسلحہ فراہم کرنے والے بنیاد ی ممالک ہیں نے اس سال فروری میں شاہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نیپال کو اسلحے کی فراہمی بند کر دی تھی اور ملک میں شاہ کےاقتدار پر قبضے کو جمہوریت کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا تھا۔ ملک کے سرکاری اخبار’دی رائزنگ نیپال‘ میں ہفتے کوچھپنے والے ایک اشتہار میں نیپال کی شاہی فوج نے غیرملکی اسلحہ بنانے والی کمپنیوں اور تقسیم کنندگان سےمختلف فوجی اور غیر فوجی سازوسامان کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ نیپال کی شاہی فوج، آراین اے، کا کہنا ہے کہ اسےمختلف قسم کے فوجی اور غیر فوجی سازوسامان کی ضرورت ہے جس میں کئی قسم کے ہتھیار، اسلحہ اور گولہ بارود، آرمڈ پرسنل کیرئیر، ٹینکس، ائیر کرافٹس، گن شپ ہیلی کاپٹر ، ذرائع ابلاغ کے سازوسامان اور بصری آوزارشامل ہیں۔ آر این اے نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسے کتنی تعداد میں فوجی اور غیر فوجی سازوسامان کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں کتنی رقم خرچ کی جائےگی۔ شاہی فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ اشتہار معمول کی کاروائی کاحصہ ہے۔ بریگیڈئر جنرل دیپک کمار نے کہا کہ فوج نے موجودہ مالی سال جو جولائی میں ختم ہورہاہے، سے پہلےغیرملکی اسلحہ بنانے والی کمپنیوں اور تقسیم کنندگان سے مختلف فوجی اور غیر فوجی سازوسامان کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||