نیپال میں ایف ایم پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں حکام نے ملک بھر میں ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کو چلانے والی کمپنی کو بند کردیا ہے۔ اس فیصلے کو ملک کے بادشاہ گینیندرا کی طرف سے میڈیا پر حکومتی پابندیوں کو بڑھانے کے سلسلے کی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شاہ گینیندرا نے اس سال فروری میں حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ وزارت اطلاعات نے ملک میں ایف ایم سٹیشنوں کو پروڈکشن کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی کو کام بند کرنے کے احکامات ان شکایات کے بعد جاری کئے ہیں کہ یہ کمپنی غیر قانونی طور پر کام کررہی تھی۔ فروری میں حکومت کا تختہ الٹے جانے کا بعد ملک میں ایف ایم سٹیشنوں کو خبریں نشر کرنے سے روک کردیا گیا تھا اور یہ پابندی ملک میں ایمرجینسی ختم کئے جانے کے بعد بھی قائم رکھی گئی ہے۔ شاہی حکام کی طرف سے میڈیا پر کنٹرول بڑھانے کی کوششوں میں ایف ایم سٹیشنوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہےکہ ان سٹیشنوں کو خبریں نشر کرنے کی اجازت دینا بین الاقوامی پریکٹس کے خلاف ہے۔ نیپال میں سینکڑوں صحافی بے روزگار ہوگئے ہیں اور اس ہفتے کے آحر میں کئی صحافی احتجاجی مظاہرہ کرنے کی منصوبے بندی بھی کررہے ہیں۔ جمعرات کے روز ملک کی سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ ایف ایم سٹیشنوں پر خبریں نشر کرنے پر پابندی کی وضاحت دے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ نیپال کی کابینہ نے ایک ایسے نئے قانونی بل کی منظوری بھی دے دی ہے جس میں میڈیا کی ملکیت کے بارے میں نئی پابندیاں اور حکومتی نکتہ نظر سے ہٹ کر رپروٹنگ کرنے پر سخت سزائیں عائد کی جائیں گی۔ اس قانون کی ابھی شاہ گینیندرا کی طرف سے توثیق باقی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||