سابق وزیراعظم نیپال، جبری پیشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا جنہیں اینٹی کرپشن پینل کے سامنے پیش نہ ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ہے اب اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ انسداد بد عنوانی کے پینل کے سامنے پیش ہوں۔ شیر بہادر دیوبا کی حکومت کو بادشاہ شاہ گیانندرا نے فروری میں برطرف کر دیا تھا۔ جس کے بعد انہیں دوسرے کئی سیاستدانوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا اور کچھ عرصے بعد رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے اور ان کے خلاف ان الزامات کی سماعت کے لیے ایک پینل تشکیل دیا گیا جس نے انہیں پیش ہونے کا ایک سمن بھیجاجسے انہوں نے مسترد کر دیا گیا جس کے بعد انہیں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا اور اب اطلاع ملی ہے کہ انہیں انسدادِ بدعنوانی کے اس پینل کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم بادشاہ ملک سب سے سنیئر سیاسی رہنما ہیں جن کو شاہی انسداد رشوت ستانی کمیشن کے حکم پر گرفتار کیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کا موقف تھا کہ شاہی انسداد رشوت ستانی کمیشن کی کوئی آئینی اور قانونی حثیت نہیں ہے اور وہ اس کے سامنے اپنے اوپر لگائے الزامات کا جواب دینے کے لیے پیش نہیں ہوں گے۔ شاہ گیانندرا جو جون سن دو ہزار ایک میں شاہی محل میں قتل عام کے بعد نیپال کے تخت پر بیٹھے تھے اپنے وزیر اعظم سے بر سر پیکار رہے ہیں اور ان کی حکومت کو دو سالوں میں دو دفعہ برخاست کر چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||