نیپال میں نئی کابینہ کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے بادشاہ گینندرا نےوزیر اعظم شیر بہادر دوئبا کی حکومت برطرف کرنے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے بعد نئی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے۔ نیپال کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہ گینندرا کابینہ کی سربراہی خود کریں گے۔ وزیر اعظم شیر بہادر دوئبا کی حکومت کی برطرفی کی ملک کے اندر اور باہر تنقید کی گئی ہے۔ بادشاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے براہ راست اقتدار سنبھالنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ دوئبا حکومت اپنا مینڈیٹ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تمام ٹیلیفون رابطے منقطع کردیئے گئے ہیں، ائیرپورٹ کو بند کردیاگیا ہے اور مسلح گاڑیاں شہر میں گشت کررہی ہیں۔ مسٹر دوئبا کو پچھلے سال جون میں وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا اور اس سے دو سال پہلے بھی بادشاہ نے ان کی حکومت کو ماؤ نواز بغاوت کچلنے میں ناکامی پر برطرف کردیا تھا۔ حال ہی میں ماؤ نواز باغیوں نے امن مذاکرات کے لئے وزیراعظم دوئبا کی طرف سے مقرر کی گئی تیرہ جنوری کی ڈیڈ لائن پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ نیپال میں پچھلے نو برس سے جاری ماؤ نواز بغاوت میں دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بادشاہ گینندرا کا کہنا تھا حکومت کو اس لیے برطرف کیا گیا ہے کہ کیونکہ وہ اپریلتک الیکشن کے انتظامات کروانے، ملک کی سالمیت اور لوگوں کی املاک کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نیپال کی صورتحال پر پہلے بین الاقوامی رد عمل میں انڈیا نے اسے جمہوریت کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||