نیپال میں حقوق انسانی پر تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کے لیے اقوام کے کمیشن کی سربراہ نیپال پہنچی ہیں تا کہ مسلسل بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا جائزہ لے سکیں۔ جب آخری مرتبہ اقوام متحدہ میں حقوق انسانی کے کسی عہدیدار نے نیپال کا دورہ کیا تھا تو نیپال غربت، پسماندگی اور جمہوری ناکامیوں سے دوچار بہت سے ملکوں میں سے ایک تھا۔ لیکن اب وہاں کا ایک اور بہت بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی گوریلا جنگ کی صورت میں بھی پیدا ہوگیا ہے جو ماؤو نوازوں اور حکومت کے درمیان جاری ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے ہاتھوں عام لوگوں کو زبردست مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی تشویش کا اندازہ نیپال میں انسانی حقوق پر مشیر کے تقرر سے لگایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سال عالمی رائے عامہ نے کئی بار نیپال میں گمشدگیوں ، تشدد اور غیرقانونی ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی اور اس برس اب تک ایسے دو واقعات مزید پیش آچکے ہیں۔ لندن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں فریق بلا خوف و خطر غیرمسلح لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ ایمنسٹی نے اس معاملے پر گزشتہ ستمبر میں جنگل میں سکیورٹی دستوں کے ہاتھوں تین لڑکیوں کی ہلاکت کی بھی مثال دی۔ ماؤنواز باغیوں نے اگست میں ایک صحافی کو اغواء کرکے ہلاک کردیا تھا۔ ہانگ کانگ میں قائم انسانی حقوق کے ایشیائی کمیشن کے مطابق نیپال میں اس وقت دہشت کی حکمرانی ہے۔ اب لوئی آربر کے پیر سے بدھ تک کے دورے میں وہ نیپال کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے مرتب کیے ہوئے انسانی حقوق کے معاہدے کا آغاز کرائیں گی۔ امید یہ کی جارہی ہے دونوں فریق، مشترکہ طور پر یا پھر الگ الگ جلد ہی اس معاہدے پر دستخط کردیں گے۔ اپنے دورے میں لوئیز آربر اعلیٰ سرکاری حکام، فوجی کمانڈروں اور غیر سرکاری انجمنوں کے اہلکاروں سے بھی ملیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||