BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 November, 2004, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسقاط حمل کرانے والیوں کے لیے معافی
نیپالی عورت
نیپال میں اسقاط حمل کرانے والی عورت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا
نیپال کے بادشاہ گیانندرا نے بارہ ایسی خواتین کے لیے معافی کا اعلان کیا ہے جن کو اسقاط حمل کرانے پر سزا دی گئی تھی۔

نیپال میں سن دو ہزار دو تک اسقاط حمل کرانا جرم تھا اور اس کی کم سے کم سزا تین سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید تھی۔

نیپال میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں قانون میں تبدیلی کے بعد سے اسقاط حمل کے لیے سزا پانے والی عورتوں کے لیے معافی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

نیپالی حکومت نے غیر قانونی طور پر غیر محفوظ طریقوں سے اسقاط حمل کے دوران عورتوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے قانون میں تبدیلی کی اجازت دی ہے۔

نیپال ایشیا کے ان ممالک میں شامل جہاں ماؤں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔

مذکورہ بارہ خواتین کی رہائی کا حکم پیر کو نیپال میں یوم آئین کے موقع پر دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد