’بچوں کے استعمال سے اجتناب کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے فلسطینی شدت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ بچوں کو خودکش حملوں اور مسلح کارروائیوں میں استعمال کرنا بند کر دیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے یہ اپیل پیر کو تل ابیب کے ایک بازار میں ہونے والے اس خود کش بم حملے کے بعد کی ہے جس میں تین اسرائیلی عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ ہیومین رائٹس واچ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں اسرائیل میں ہونے والے خود کش بم حملوں میں اٹھارہ سال کے کم عمر کے دس نوجوان کام آئے۔ پیر کو ہونے والے خود کش بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم نے کہا ہے کہ وہ بچوں کو بھرتی نہیں کرتی۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر والوں کو بچوں کی کیٹیگری میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر جو بیکر کے ممطابق اگرچہ عام شہریوں پر حملہ بین الاقوامی قانون کی رو سے منع ہے لیکن خود کش حملوں کے لیے بچوں کا استعمال خاص طور پر ناپسندیدہ عمل ہے۔ ’فلسطینی مسلح گروہوں کھلے عام مسلح کاروائیوں میں بچوں کے استعمال کی مذمت کرنا چاہیے اور اس بات کی خود بھی پاسداری کرنی چاہیے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||