نیپال میں یومِ سوگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں قتل کیے جانے والے بارہ نیپالی یرغمالیوں کے غم میں جمعرات کو نیپال میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منایا جارہا ہے۔ سوگ کے سلسلے میں تمام تعلیمی ادارے ، سرکاری اور نجی دفاتر اور کاروباری ادارے بند ہیں اور نیپال کا جھنڈ سرنگوں ہے۔ بدھ کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ان نیپالی یرغمالیوں کی ہلاکت کے رد عمل میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے اور شہر میں واقع ایک جامع مسجد کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان پر تشدد واقعات کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ جمعرات کو کرفیو میں نرمی کے اوقات میں لوگ اپنے گھروں سے خوراک اور دیگر ضروری اشیاء خریدنے کے لیے باہر آئے۔ یوم سوگ کے دوران سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہا اور سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے بھی ملی اور مذہبی نغمے نشر کیے۔ نیپال کی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے چودہ ہزار ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نمائندے سوسل شرما نے بتایا ہے کہ کھٹمنڈو میں صورت حال ابھی کشیدہ ہے۔ نامہ نگار نے بدھ کو مسجد پر ہونے والے حملے کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نیپال کی تاریخ میں پہلا واقع ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہ یا املاک کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||