نیپال میں امن کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے وزیر اعظم نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں زبردست مظاہروں کے بعد شہریوں سے امن کی اپیل کی ہے۔ دریں اثنا کھٹمنڈو میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ عراق میں بارہ نیپالی یرغمالیوں کے قتل کے بعد نیپال میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے جن میں مظاہرین نے ایک مسجد اور مشرق وسطیٰ کی کئی کمپنیوں کے دفاتر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ نیپال کے وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا نے ریڈیو پر خطاب میں نیپالی عوام سے ضبط کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں ہونے والی ہلا کتوں کے رد عمل میں نیپال میں کسی بھی طبقے کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں۔ نیپال کے بادشاہ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بھی شہریوں سے امن کی اپیل کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تین افراد کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کے ساتھ تصادم میں زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کھٹمنڈو اور اس کے نواحی اضلاع میں صورتحال کشیدہ ہے۔ نیپال کی اسلامی تنظیموں نے بھی اس واقعے کی مذت کی ہے اور کہا کہ عراق میں یرغمالیوں کی ہلاکتیں اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ ایک نیپالی اہلکار کے مطابق بارہ یرغمالیوں کی ہلاکت کی خبر کی نیپال کی تاریخ کا بد ترین واقعہ تھا۔ ہلاکتوں کی خبر کی تصدیق ہوتے ہی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور حکام کے لیے صورتحال سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||