کٹھمنڈو: حالات معمول پر آرہے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں بارہ نیپالی مزدوروں کے قتل کے بعد نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں پیدا ہونیوالے تشدد کے بعد نافذ کیا جانے والا کرفیو ختم ہوگیا ہے اور دکانیں اور تجارتی ادارے پھر سے کھل گئے ہیں۔ کٹھمنڈو میں بدھ کی شب کرفیو اس لئے نافذ کرنا پڑا کیونکہ عراق میں اغواکاروں کے ہاتھوں بارہ نیپالیوں کے قتل کے بعد عوام میں غم و غصے کا ماحول پھیل گیا تھا اور لوگوں نے ایک مسجد کو آگ لگادی۔ مشتعل ہجوم نے مشرق وسطیٰ کی کچھ ایئرلائنز اور عرب ممالک میں نوکریوں کے لئے بھرتی کرنیوالی کمپنیوں کے دفاتر کو بھی آگ لگادی اور توڑ پھوڑ کی۔ پیر کی صبح نیپالی حکام نے یہ کہتے ہوئے کرفیو اٹھالیا کہ حالات اب معمول پر آگئے ہیں۔ اس تشدد کے دوران پی آئی اے کے دفتر پر بھی توڑ پھوڑ کی گئی جس کے بعد پی آئی اے نے عارضی طور پر اپنی پروازیں بند کردی تھی۔ اب پی آئی اے نے پھر سے اپنی پروازیں شروع کردی ہیں۔ نیپالی حکومت نے دارالحکومت میں تشدد کے واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس تشدد میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ جمعہ کو نیپالی حکومت نے کہا کہ عراق میں قتل کیے جانے والے بارہ نیپالیوں میں سے ایک کی لاش مل گئی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ دیگر لاشیں بھی آخری رسومات کے لئے برآمد کرلی جائیں گی۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے عراق میں کام کرنیوالے نیپالیوں سے عراق چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ عراق میں کتنے نیپالی کام کررہے ہیں تاہم ایک اندازہ ہے کہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔ نیپال میں مذہبی تشدد کے واقعات نہیں ہوتے ہیں اور یہ پہلا واقعہ تھا جب مسلم اقلیت کے خلاف تشدد دیکھنے میں آیا۔ نیپال کی حکومت نے متاثرہ مسجد کو بنانے کے لئے امداد اور ہلاک ہونیوالوں کے رشتہ داروں کو معاوضہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||