گورکھے نے پینشن کی جنگ جیت لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی فوج کے گورکھا بریگیڈ کے ایک سابق نیپالی سپاہی نے برطانوی وزارتِ دفاع سے نسلی امتیاز برتنے کے الزام کا مقدمہ جیت لیا ہے۔ گورکھا سپاہی ، لال بدھا، کے دعوے کے مطابق وزارت اسے ماہانہ ایک سو پچھہتر ڈالر پنشن دیتی ہے جو عام برطانوی سپاہی کے مقابلے میں پانچ گنا کم ہے۔ اس مقدمے کی جیت پر اسے پر اسی ہزار ڈالر ملنے کی امید ہے۔ برطانوی فوج کے گورکھا سپاہی روایتا ً بھارتی فوجیوں کے برابر تنخواہ اور پنشن لیتے ہیں۔ لال بدھا کے مطابق کیونکہ وہ اپنی نوکری کے بعد نیپال کے بجائے برطانیہ میں ہی رہائش پذیر ہوا اس لیے وہ ماہانہ اتنی کم رقم ملنے کی وجہ سے غربت کا شکار ہو گیا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق انیس سو ستانوے سے گورکھا سپاہیوں کی پنشن اور حالاتِ زندگی میں بہتری آئی ہے۔ ستمبر میں برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ریٹائرڈ گورکھا سپاہی جنہوں نے چار سال تک برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دی ہوں، برطانوی شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||