BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 September, 2004, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: نسلی جرائم میں 50% اضافہ
نسل پرستی
بی بی سی ایک دستاویزی فلم کے بعد پولیس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس میں موجود نسل پرستی کو ختم کرنے کے اقدام کیے جا رہے ہیں
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی برطانیہ میں ہونے والے نسلی جرائم میں سال بھر کے دوران %50 اضافہ ہوا ہے۔

2002 اور 2003 کے مقابلے میں 2003 اور 2004 کے دوران ہونے والے نسلی حملوں اور ہراساں کرنے کے واقعات 81 سے بڑھ کر 122 ہو گئے۔

اسی عرصے میں جن لوگوں پر مقدمات چلائے گئے ان کی تعداد 33 سے بڑھ کر 68 ہو گئی جب کہ ان میں سے سزا پانے والوں کی تعداد 18 سی 50 تک جا پہنچی۔

سنہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کوئی بھی نسلی اقلیت کل آبادی کے ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

ایک دیہی نسلی منصوبے پر کام کرنے والے مانیٹرنگ گروپ سے تعلق والے جان میکینزی کا ان نئے اعداد شمار کے بارے میں کہنا ہے کہ ’مجھے ان اعداد و شمار پر کوئی حیرت نہیں ہوئی بلکہ دھچکہ لگا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ حکام کی اکثریت نسل پرستی کی وجود سے ہی انکار کرتی اور ہماری اصل تشویش ہی یہ ہے کہ حکام اس مسئلے سے کیسے نمٹیں گے؟‘۔

برنائی ڈینارڈ زنجبار میں پیدا ہوئیں۔ وہ اب شمالی کارن ول میں رہتی ہیں اور انہیں برطانیہ میں چالیس سال ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’میرے خیال میں اس سارے عرصے کے دوران جو میں نے اب تک یہاں گزارا ہے، میں نے لوگوں کی اکثریت بہت ہی اچھا پایا ہے‘۔

’لیکن اس کے باوجود میرا خیال ہے مجھ سے مقابلتاً مختلف برتاؤ کیا جاتا ہے ۔ ملاقاتوں اور اجلاسوں میں شرکت کے لیے میں جہاں کہیں جاتی ہوں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے ’چائےمارکہ عورت‘ تصور کیا جا رہا ہے‘۔

برنائی ڈینارڈ اسے تعلیم اور تربیت کا معاملہ قرار دیتی ہیں۔

ایما اگرچہ سفید فام ہیں لیکن ان کا تعلق ایک مخلوط خاندان سے ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کی بیٹی کو ان کے گھر کے سامنے والے گھر میں رہنے والا بچہ مختلف ناموں سے چڑھاتا اور پکارتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس سلسلے میں معقول طریقہ اختیار کیا اور اس بچے کے والدین سے اس معاملے پرگفتگو کی اور اس کے بعد یہ مسئلہ ختم ہو گیا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد